تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 295
۲۹۳ "ہم نے گورنمنٹ سے اس کے خریدنے کی درخواست کی اور اس سے کہا کہ آخر آپ نے ہمیں کوئی جگہ دینی ہی ہے اور کہیں بسانا ہی ہے۔اگر یہ جگہ ہمیں مل جائے تو جتنے احمدی یہاں بس جائیں گے ان کا جو چھ گورنمنٹ پر نہیں پڑے گا۔قادیان کے باشندوں کو اگر کسی اور جگہ آباد کیا جائے تو انہیں بنی بنائی جگہیں دی جائیں گی۔لیکن اگر وہ یہاں بس بھائیں تو کروڑوں کی جائید بکی بجائے گی جو دوسرے تمہا جرین کو دی جا سکتی ہے۔قادیان میں دو ہزار سے زائد مکانات تھے جن میں بعض پچاس پچاس ہزار کے تھے اور بعض لاکھ دو لاکھ کے تھے۔لیکن اگر پانچ ہزار روپے فی مکان بھی قیمت لگائی جائے تو ایک کروڑ کے مکانات قادیان میں تھے اور یہ قیمت صرف مکانوں کی ہے، زمین کی قیمت، استی، الگ ہے۔زمین کی قیمت اس وقت دس ھزار روپے فی کنال تک پہنچ گئی تھی اور پانچ سو ایکڑ کے قریب زمین مکانوں کے نیچے تھی۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ چالیس ہزار کنال زمین پر مکانات بنے ہوئے تھے۔اگر پانچ ہزار روپے فی کنال بھی قیمت لگا دی جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ دو کروڑ کی زمین تھی جس پر مکانات بنے ہوئے تھے گویا تین کروڑ کے قریب مالیت کے مکانات قادیان والے چھوڑ کر آئے ہیں۔اگر لاہور ، لائل پور ، سرگودھا وغیرہ اضلاع میں قادیان کے لوگوں کو بسایا بجائے تو پھر وہاں زمین اور مکانات کی قیمتیں قادیان کی زمین اور مکانات سے بڑھ کر ہوں گی۔اگر احمدیوں کو یہ جگہ دے دی جائے اور وہ وہاں بس جائیں تو قریباً چار کروڑ کی جائیداد کی جاتی ہے جو دوسرے لوگوں کو دی جاسکتی ہے۔انہوں نے اس تجویز کو پسند کیا اور کہا کہ قاعدہ کے مطابق اسے گزٹ میں شائع کرنا ہوگا اور وعدہ کیا کہ وہ نومبر یا دسمبر میں اسے شائع کر دیں گے۔مگر جب جنوری میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہ دیا کہ ہم بھول گئے ہیں ہم نے کہا یہ آپ کا قصور ہے۔بہار ہے آدمی آوارہ پھر رہے ہیں۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا خواہ کچھ بھی ہو، بہر حال اسے شائع کرنا ضروری ہے تا معلوم کیا جائے کہ اس زمین کا کوئی دعویدار ہے یا نہیں۔اس کے بعد کہہ دیا گیا جب تک کا غذات کشنر کی معرفت نہ آئیں کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ایک مہینہ میں کاغذ کمشنر کے پاس سے ہو کر پہنچے۔اور اس طرح مارچ کا مہینہ آگیا۔پھر کہا گیا کہ ان کا غذات پر قیمت کا اندازہ نہیں لکھا