تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 294
۲۹۳ "The Proposed sale against a price of Rs۔10/- per acre was approved in principle۔It was however direct- ed that the town planners should examire the entire building plans of the purchaser particularly with a view to see that plenty of room is left for the widening of through road۔" ترجمہ: دس روپیہ فی ایکڑ کے حساب سے مجوزہ فروخت اصولی طور پر منظور کی گئی۔تا ہم یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ ٹاؤن پلیز کو چاہیئے کہ خریدار کے تمام تعمیری (عمارتی) منصوبہ کا اچھی طرح ملاحظہ کریں خصوصاً اس نظریہ کے تحت کہ سڑکوں کو کشادہ رکھنے کے لئے کافی جگہ چھوڑی گئی ہے۔حکومت پنجاب کے اس فیصلہ کی باقاعدہ اطلاع اے جی رضا ڈ پٹی سیکرٹری ڈویلپمنٹ کی طرف اسے بتاریخ ۲۲ جون ۱۹۳۱ء کمشنر صاحب ملتان کو بھجوائی گئی جہاں سے ڈپٹی کمشنر کو اطلاع پہنچی۔سیدنا المصلح الموعود اس کام میں ایک ایک منٹ کی دیر کو خطرناک سمجھتے تھے اور دراصل یہ آپ ہی کی خصوصی توجہ اور دُعا کا نتیجہ تھا کہ یہ کوششیں بارآور ہوئیں ورنہ حالات قدم قدم پر سخت مخدوش تھے۔حضور کے بعد اس مقصد کی تکمیل میں جس بزرگ نے کمال سر فروشانہ جدوجہد کی وہ حضرت نواب محمد دین صاحب تھے۔جنہیں خود حضرت سیدنا اصلح الموعود نے یہ کام سونپا تھا۔آپ کے علاوہ حضرت مرزا عزیز احمد صاحب، حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد، راجہ علی محمد صاحب سابق افسر مال، ملک عمر علی صاحب کھوکھر رئیس ملتان، شیخ محمد دین صاحب مختار عام اور عبد الغنی صاحب ہیڈ کلرک بندوبست جھنگ (سابق امیر جماعت مگھیانہ) کی مساعی جمیلہ کا بھی نمایاں عمل دخل رہا۔خرید اراضی کیلئے دفتری کارروائی کی تفصیلا) اراضی مرکز کی خرید کے لئے کیا کیا دفتری کارروائی کی گئی؟ اُس کی تفصیلات حضرت سیدنا الصلح الموعود نے ، ارتبوک استمبر کاہش لمصل سید نا اصلح الموعود کے الفاظ میں المصل کو حسب ذیل الفاظ میں بیان فرمائی:-