تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 273
۲۷۱ ضلع سیالکوٹ (باستثناد تحصیل شکر گڑھ) اس ضلع میں احمدیوں نے غیر مسلموں کو بچانے کے لئے جو خدمات انجام دیں اُن کا خلاصہ یہ ہے :- -1 جماعت احمدیہ کلا سوالہ تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ نے اس قصبہ کے تقریباً ڈیڑھ ہزار غیر مسلموں کی ہر ممکن حفاظت و اعانت کی۔اب یہ لوگ قادیان میں آباد ہیں۔احمدیوں کی ہمدردی اور محبت رواداری پر رطب اللسان ہیں۔۔قاضی محمد ابراہیم صاحب ہیڈ ماسٹر کھولیاں نے چار پانچ ملحقہ گاؤں کے غیر مسلموں کو بچانے کے لئے دو تین بار اپنے تئیں خطرے میں ڈالا اور ان کی ذاتی کوششوں سے یہاں سکھ مسلم تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا۔۔جماعت احمدیہ چونڈہ نے قریباً دو سو غیر مسلموں کو اپنے محلہ میں بحفاظت رکھا اور محفوظ صورت - میں غیر مسلم کیمپ تک پہنچایا ہے ۴- چودھری فیض عالم صاحب پریزیڈنٹ مالو کے بھگت اور محمد یوسف صاحب سکوڑی مال مالو کے بھگت کا بیان ہے کہ موضع مانگا کے غیر مسلموں کے دو قافلے جو قریباً ساڑھے تین چار ہزار نفوس پشتمل تھے مالو کے بھگت سے گزرے تو اُن پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی جو احمد یو کی مداخلت سے ناکام بنادی گئی اور وہ صحیح سالم گزر گئے۔شہر سیالکوٹ کے ایک سابق باشندے سانجی مل پر تین حملہ آور کلہاڑے سے ٹوٹ پڑے گر فتح محمد صاحب سہگل ( اسلام پورسیالکوٹ) درمیان میں آگئے اور سانجی مل رکھے گیا۔موضع را مبراہ کے نمبردار شاہ نواز صاحب کی کوشش سے سات افراد پرمشتمل ایک ہند و کنبه نیز م دیگر غیر مسلم صحیح سلامت سرحد تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔چونڈہ کا ایک غیر مسلم بیدی شندر سنگھ فسادات سے قبل بغرض تجارت ایران چلا گیا اور گھر کی ذمہ داری ایک احمدی محمد عبداللہ صاحب ( ولد اللہ بخش صاحب ) پر تھی۔چنانچہ جو نہی قتل و غارت کا بازار گرم ہوا ، اُس احمدی نے اس کے بال بچوں کو امد اس تک پہنچا دیا۔علاوہ ازیں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر چونڈہ کے شو ناتھ اور درگا ہ اس کی جان بچائی اور ان کی دکان سے سامان لاکمہ نے بروایت رحیم بخش صاحب پریزیڈنٹ جماعت احمدیہ چونڈہ :