تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 268 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 268

۲۶۶ فصل مفتیم جیسا کہ اس باب کے آغاز میں ذکر آچکا ہے پاکستان میں قیام امن کیلئے بے لوث خدمات سر حضرت مصلح موعود نے پاکستان میں قدم رنجہ فرماتے ہیں احمدیوں کو تاکید فرما دی تھی کہ وہ ہندوؤں اور سکھوں میں سے کسی پر ظلم نہ ہونے دیں کیونکہ وہ بھی خدا کے بندے ہیں اور وہ خود یا اُن کی تسلی کسی دن اسلام میں داخل ہو کہ اس کی ترقی کا موجب نہیں گئے۔صوبیدار نصر اللہ صاحب آن شیخ پور ضلع گجرات کا بیان ہے کہ یمیں شروع اگست (انہ میں اپنے گاؤں شیخ پور سے قادیان بجانے کے لئے لاہور آیا۔لیکن چونکہ میری رخصت بہت تھوڑی رہ گئی تھی اس واسطے کارکنوں نے مجھے واپس کر دیا۔واپسی سے پہلے ہمارے آقا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دھا مل بلڈنگ میں چھوٹا سا لیکچر دیا۔اس میں یہ بات بھی تھی کہ تم لوگ اب واپس اپنے اپنے گھروں میں جاؤ۔اپنے علاقہ کے ہندو اور سکھوں کی ہر ممکن طریقے سے حفاظت اور امداد کرو۔اگر تم ان کی حفاظت کرتے ہوئے مارے بھی گئے تو یہ شہادت ہوگی۔اگر کوئی جنتہ ہندوؤں یا کھوں کا ہندوستان جاتا ہو ا تمہارے پاس سے گزرے تو تم ان کو اگر کھانا وغیرہ کھلا سکو تو ضرور کھلاؤ " جماعت احمدیہ نے امیرالمومنین کے اس حکم کا نہایت شاندار عملی جواب دیا۔اور خدا کے فضل و کرم سے اپنی بے سروسامانی اور دہشت انگیز ماحول کے باوجود ہزاروں بندگان خدا کی جان، مال اور آبرو کی اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر حفاظت کی اور اس طرح " أَنْصُرُ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُوما کے ارشاد نبوی کی تعمیل کر کے خدمت خلق کا بہترین نمونہ قائم کر دکھایا۔اس ضمن میں بطور مثال بعض اہم واقعات کا بیان کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔۲۱۹۴۷ " الفضل" در نبوت / نومبر له مش صفحه ۳ کالم ۳۔لہ یعنی اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ مسلم کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنے مظلوم بھائی کی مدد کا مطلب تو سمجھتا ہوں لیکن ظالم بھائی کی کس طرح مدد کروں۔فرمایا۔اسے ظلم سے روکو اور منع کرو کہ یہی اس کی مدد ہے (بخاری کتاب الاکراه مصری حیدر صفر