تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 15
۱۵ کے لئے وقف رہے گی۔اس لئے تمام جماعت ہائے احمدیہ اندرون و بیرون ہند کو اطلاع دی جاتی ہے کہ وہ ہر قسم کی خط و کتابت اب شاخ لاہور سے کریں اور چندوں اور امانتوں کی تمام رقوم بجائے قادیان کے لاہور بھیجیں۔محاسب صاحب قادیان سے لاہور آپکے ہیں۔شاخ لاہور کے لئے خان محمد عبد اللہ خالصا آن مالیر کوٹلہ کو ناظر اعلیٰ مقرر کیا گیا ہے شاخ لاہور کا پتہ ہوا ٹمپل روڈ لاہور ہے جو احمدی احباب یہ اعلان سُنیں دوسروں تک پہنچا دیں “ اس اعلان کے علاوہ صدر انجمین احمدیہ شاخ لاہور کی طرف سے بیرونی جماعتوں کو بھی بذریعہ تار اطلاعات دی گئیں۔جود عامل بلڈنگ کے ساتھ رتن باغ کا وسیع احاطہ تھا جہاں تقصیر رتن باغ کی مرکزی حیثیت سيدنا المصلح الموعود (معہ خواتین مبارکہ کے) فروکش ہو گئے۔بعد ازاں جب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ، حضرت مرزا شریف احمد صاحب ، حضرت صاحبزاده مرزا ناصر احمد صاحب اور خاندان حضرت مسیح موعود کے دوسرے چشم و چراغ بھی پاکستان میں ہجرت کر کے آگئے تو انہیں بھی اپنی پناہ گزینی کے ابتدائی تکلیف دہ ایام یہیں گزارنے پڑے۔ہے۔دیوان رتن چند صاحب مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب کے ایک قابل منشی اور معزز درباری تھے جو حضور نویسی کے عہدہ پر ممتاز تھے۔دیوان صاحب کو تعمیرات کا بہت شوق تھا۔منہ میں جب لاہور کے محلہ مائی لاڈو کے عالیشان مکانات اور عظیم الشان باغات کی بنیادوں اور کھنڈروں پر عمارات کا آغاز ہوا تو دیوان صاحب نے اس زمین کو صاف اور ہموار کرایا اور یہاں ایک عالیشان مکان اور باغ بنا کر اپنی یاد گار قائم کی جو رتن باغ" کے نام سے مشہور ہوئی۔بر صغیر کے مشہور مؤرخ و صحافی منشی محمد الدین صاحب فوق مدیر اخبار کشمیری نے اپنی آخری تصنیعت آخر لاہور میں یہ حالات بیان کرنے کے بعد سر میں اس یادگار کا نقشہ بایں الفاظ کھینچا۔باغ کے چاروں کونوں پر چار پختہ مکانات بنتے ہوئے ہیں جن میں دیوان رتن چند کے جانشینوں نے بہت کچھ ترمیم اور ایزادی کر دی ہے۔درمیانی بارہ دری دو منزلہ ہے اور اس میں بڑا وسیع سرد تھانہ ہے۔بارہ دری کی دیواروں میں فوارے ہیں اور صحن میں ایک بڑا کشتی نما حوض بنا ہوا ہے جس کے گرد فواروں کی موج بہار عجب لطف دیتی ہے۔باغ کے دروازہ کی ڈیوڑھی چار منزلہ