تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 256 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 256

۲۵۴ کی باری آگئی جس میں موضع ننگل کے مسلمان پناہ گیر جمع تھے۔ہندو فوجیوں نے اس کو بھی کی تلاشی لی اور پناہ گیروں سے ان کے زیورات اور نقدی چھین لی۔دیہاتی رقبوں سے مسلمان لڑکیاں تعلیم الاسلام کالج کے نزدیک اور دوسرے مقامات پر کھلی جگہ جمع ہوگئی تھیں۔رات کے وقت ان میں سے متعدد لڑکیوں کو ہندو نوجی اُٹھا لے گئے۔بعض تو عصمت دری کے بعد والدین کو دے دی گئیں اور بعض ہمیشہ کے لئے مغائب ہو گئیں۔۲۰ ستمبر کو لیفٹینٹ کرنل گور بیچن سنگھ نے قادیان کے مسلمانوں کو بتایا کہ مغربی پنجاب کے غیر مسلم پناہ گیر حکومت سے مطالب کر رہے ہیں کہ انہیں مشرقی پنجاب میں آباد کیا جائے اس لئے مقامی مسلمانوں کو عنقریب یہاں سے نکال دینا پڑے گا تا کہ غیر مسلموں کے لئے جگہ نکالی جا سکے۔۲ اور ۳ اکتوبر کی درمیانی شکور ہے کوئی دو ہزار سکھوں نے موضع بھینی پر حملہ کیا مسلمان دوسرے دن صبح کو یہاں سے رخصت ہو گئے۔سکھ اور ہندو فوجیوں نے ان کے گاؤں کو لوٹ لیا اور گاؤں کے مسلمان ذیلدار کی لڑکیوں کو سیکھ اٹھا کر لے گئے۔در اکتوبر کو 9 بجے صبح کرفیو کے دوران میں سکھوں نے قادیان بچہ دھاوا بول دیا اور کے نت و العفو و ارا رحمت اور دار الیسر پر حملہ کیا سیکھوں نے فوجیوں کی امداد سے ایک اور حملہ بھی کیا مسلمانوں کو حیراً ان کے گھروں سے نکالا اور کوئی پچاس افراد کو ہلاک کر دیا۔ایک فوجی کنوائے جس کے کمانڈر میجر داؤد تھے قادیان بھیجا گیا تا کہ مقامی مسلمانوں کو نکال لائے قادیان کے بہندو فوجیوں نے اس کا نوائے کو پریشان کیا مسلمان محافظ دستے کی گولی بارود کی پڑتال کی اور پھر ساڑھے چار گھنٹے تک کانوائے کو روکے رکھا۔سکھ اپنی ہم مذہب پولیس کے اغماض سے فائدہ اُٹھا کر پناہ گیروں کی پیش قیمت چیزیں ٹوٹ رہے تھے جو لوگ اپنے مال کی تلاشی یا چھین جھپٹ پر مزاحمت کرتے تھے وہ گولی کا نشانہ بنا دیئے بھاتے تھے۔یہ اطلاع کیپٹن بہاگ سنگھ (۳) پنجاب رجمنٹ) کو جواب ہے پیرا رجمنٹ میں ہے پہنچائی گئی اور اس نے اس کے تدارک کا وعدہ بھی کیا۔لیکن مسلمانوں کے گھر برابر ٹوٹے بھاتے رہے۔در اصل ملٹری اور پولیس خود مسلمانوں کو ٹوٹتی تھی اور سکھ لٹیروں کی مدد بھی کرتی تھی۔بخان بہادر عبدالحسین ریٹائرڈ سب انسپکٹر