تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 255
۲۵۳ of Evacuation and Rehabilitation of the Government of Pakistan۔They have telegraphed to the Govern- ment of India to declare Qadian a relugee camp and to provide adequate protection”۔وزارت تهاجرین و آباد کاری حکومت پاکستان کا ایک اخباری بیان مظہر ہے کہ حکومت پاکستان کو یہ معلوم ہوا ہے کہ دس ہزار مسلمان قادیان ضلع گورداسپور میں پناہ گزین ہیں۔وزارت کی طرت سے ایک برقی پیغام کے ذریعہ سے انڈین گورنمنٹ سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ قادیان کو بہا جو کیمپ قرار دیا جائے اور اس کی مناسب حفاظت کا انتظام کیا جائے۔مظالم قادیان کا ذکر "سکھ میدان کارزار میں " کے کتابچہ میں حکومت پاکستان کی طرف من ایک کتابچه شبکه میدان کارزار میں " شائع کی گئی۔اس کتابچہ میں مظالم قادیان کا ذکر حسب ذیل الفاظ میں کیا گیا۔" قادیان کے نواحی دیہات سے کوئی ایک لاکھ مسلمان خاص قادیان میں جمع ہو گئے تھے کیونکہ سکھوں نے ہندو فوج اور سکھ پولیس کی امداد سے ان پر حملے کر کے انہیں گھروں سے نکال دیا تھا۔ان کے گھر ٹوٹ لئے تھے اور بہت سی عورتیں غائب کر دی تھیں۔اس کے بعد سکھ اسٹنٹ سب انسپکٹر نے سکھوں کو قادیان میں بیلا لیا۔۱۵ یا ۷ ستمبر کو قصبے پر کرفیو لگا دیا گیا۔اس کے ساتھ ہی سکتے یں نے بہندو فوجیوں اور غیر مسلم پولیس کی مدد سے دارالا نوار، دار السعۃ ، دار الشکر اور اسلام آباد کے مسلم محلوں پر حملہ کر دیا اور ان پر ٹوٹ مچا دی۔اسسٹنٹ سب انسپکٹر فوج کی معیت میں محلہ دارالا نوار کی کوٹھی گل رعنا “ پر حملہ کر کے اس میں گھس گیا جہاں پچار سو مسلمان جمع ہو چکے تھے۔فوجی سپاہیوں نے جتنی بیش تحمیت اشتہار کا مطالبہ کیا وہ انہیں دے دی گئیں۔اس کے بعد مسلمان تین ٹولیوں میں تقسیم کئے گئے جو عورتوں ، بوڑھے آدمیوں اور نوجوان مردوں پرمشتمل تھیں۔نوجوان مردوں کو سامنے آنے پر مجبور کیا گیا اور ملڑی نے ان پر گولیاں چلائیں۔۲۵ ستمبر کو سر ظفر اللہ خاں کی کوٹھی بیت الظفر