تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 253 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 253

۲۵۱ تلاش ہوتی رہی۔پولیس کا یہ طرز عمل تحیر خیز ہے۔ایک طرف تو قانون شکن بھتے کھلے بندوں مصروف عمل ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں کو اپنے بچاؤ کے لئے کوئی ہمتیار رکھنے کی بھی اجازت نہیں۔غالباً پولیس یہ تسلی کر لینا چاہتی ہے کہ مسلمان نہتے ہیں اور جب ان پر حملہ ہو جائے تو اُن کے پاس بچاؤ کا کوئی ذریعہ نہیں۔منگل کے گاؤں پر جو قادیان سے کوئی آدھ میل دور ہے سکھوں نے قبضہ کر لیا۔ایک کانوائے پر جو قادیان سے پناہ گزین لا رہا تھا۔قادیان اور بٹالہ کے درمیان حملہ ہوا۔حفاظتی فوجی دستے کو گولی چلانی پڑی۔ایک اور اطلاع مظہر ہے کہ پولیس نے قادیان میں کرفیو لگا کر تلاشیاں ہیں۔امام جماعت احمدیہ کے مکان پر چھاپہ مار کر لائٹنس والی بندوقیں اور ان کے کارتوس چھین لئے گئے۔پولیس تمام اسلحہ جس کا لائسنس لوگوں نے لے رکھا ہے چھین رہی ہے کرفیو کا وقت شام کے چھ بجے سے صبح پانچ بجے تک ہے (روپی) اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ ہور " سول اینڈ ملٹری گزٹ ہور نے لکھا:۔لاہور ملٹری امتحان اس وقت قادیان دنیا کی نظروں کا مرکز بنا ہوا ہے کہ وہاں ہندوستانی گورنمنٹ اقلیتوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے ؛ احمدیہ جماعت کے نزدیک قادیان صرف جماعت کا مرکز ہی نہیں بلکہ ان کی نگاہوں میں اس شہر کا درجہ کچھ اور ہی ہے۔احمدی ایک محنت کش، اخوت پسند ، اور نہایت ہی منظم جماعت ہے۔جس حکومت کے ماتحت بھی یہ رہتے ہوں اس کے ساتھ وفاداری گویا کہ ان کے مذہب کا ایک جبہ و ہے۔اگر قادیان پاکستان میں آجاتا تو کٹر مسلمانوں کی طرف سے مذہبی بنا پر ان کو زاید کوئی تکلیف پہنچتی مگر ہندوستان میں آجانے کی وجہ سے اس قسم کے تفکرات کی ان کو کوئی امید نہیں تھی اور وہ پرامن زندگی بسر کرنے کے امیدوار تھے مگر بعد کے واقعات نے ان کی ان تمام امیدوں کو غلط ثابت کر کے دکھلایا صرف اس لئے کہ یہ مسلمان تھے مغربی پنجاب سے آنے والی اقلیتوں نے اپنے نقصان کا انقلاب" ۲۴ ستمبر ۱۹۴۷ صفحه ۱ *