تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 246
اور جماعت احمدیہ پر ہر جائز و ناجائز طریقے سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ قادیان کو خالی کر دیں۔شہر کے بہت سے حصے خالی کر دیئے گئے ہیں اور باقیماندہ آباد کی کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ شہر کے صرف ایک حصے میں جس میں آبادی کی تعداد کے لحاظ سے بہت کم مکانیت ہے جا کر رہے۔یہ جگہ بہت تنگ ہے۔وہاں کے لوگوں کو تنگ جگہ میں ! سہنے پر مجبور کرنے کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ بالآخر وہ شہر خالی کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔راشن دینا بھی بالکل بند کر دیا گیا ہے اور قادیان کے باشندوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی کوشش کی بسیار یہی ہے۔مرزا صاحب نے بریگیڈیر تھمایا کے عالیہ بیان اور آل انٹر یا نہ بیٹریو کے اس اعلان کو کہ قادیان میں بالکل امن ہے جھٹلایا اور میرانی ظاہر کی ہے کہ اتنے بڑے اور ذمدار عہدے پر فائزہ کوئی افسر اتنا سفید جھوٹ بول سکتا ہے۔مرزا صاحب نے کہا۔ہم پہلے بھی بارہ اعلان کر چکے ہیں اور میں پھر دوہرانا چاہتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کا مسلک ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ یا اقتدار حکومت کا ساتھ دے اور اس کی وفادار رہے۔ہم نے حکومت ہند کو بھی یقین دہا نے کی کوشش کی ہے کہ احمدیہ جماعت کے جو پیر و قادیان میں مقیم رہیں گے وہ ہندوستان کے ہر طرح سے وفادانہ رہیں گے۔مگر ہمیں افسوس ہے کہ باوجود ہمارے یقین دلانے کے اور با دبور و گاندھی جی اور پنڈت نہرو کے، بار بار یہ کہنے کے کر ہندوستان سے ان مسلمانوں کو نہیں نکالا جائے گا جو انڈین ڈومینین سے اپنی وفاداری کا یقین دلائیں گے مشرقی پنجاب کی حکومت کی انتہائی کوشش یہ ہے کہ کسی طرح قادیانی، خالی ہو جائے۔اور اس ارادے کا اظہار کئی طریقوں سے مشرقی پنجاب کے افسر کر چکے ہیں۔ان سب تکلیفوں ، مظالم اور مشکلات کے ہوتے ہوئے مرزا صاحب نے۔اس مصمم ارادے کا اظہار کیا کہ تب تک حکومت ہند صاف الفاظ میں یہ نہ کہہ دے کہ تم لوگوں کو قادیان خالی کر دینا چاہیئے ہم قادیان ہرگز ہرگز خالی نہ کریں گے اور ہم اس مقصد کے لئے ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں۔مرزا صاحب نے کہا کہ ان کے سات نوجوان بیٹے ابھی تک قادیان میں ہیں اور آخری دم تک وہیں رہیں گے مرزا صاحب نے آخر میں انتہائی ناراضگی اور افسوس کا اظہار کیا کہ قادیان کے حکام