تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 245 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 245

۲۴۳ ۵۔پھر اسی اخبار نے لکھا کہ :۔- قامیان پریسکو یونٹوں کے حملے فوج اور پولیس عمل آورو کی امدادے رہی ہے فوج نے سر محمد ظفراللہ کا مکان خود ٹوٹا۔شہر میں تباہی کے آثار لاہور ، راکتو یہ سکرٹری امین انصار السلمین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قادیان کی تازہ ترین صورت حال کے متعلق جو خبریں موصول ہوئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیان کی حالت پہلے سے بھی ابتر ہو گئی ہے۔قادیان کے ایک محلہ پر سکھ غنڈوں نے حملہ کر دیا لیکن محلہ والے تھیں فنڈوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے میں کامیاب ہو گئے۔بعد ازاں پولیس اور فوج حملہ آوروں کی امداد کے لئے پہنچ گئی اور محلے والوں کو بری طرح گولیوں کا نشانہ بنا دیا۔پولیس اور فوج کی کارروائیوں میں بیشمار سلمان شہید ہو گئے مسلمانوں کو اپنے بھائیوں کی لاشوں کے پاس تک نہ بھانے دیا گیا۔قادیان سے ایک فوجی مسلمان کپتان لاہور پہنچا ہے۔اس کا مکان لوٹ لیا گیا ہے جو دہرا سر محمد ظفر اللہ خان کا مکان بھی لوٹا جا چکا ہے۔ٹی۔آئی ڈگری کالج کی عمارت پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور کالج کی عمارت لاہور کے سکھ نیشنل کالج کے لئے وقف کر دی گئی ہے۔پاکستان کا ایک ہوائی جہازہ کل قادیان پر سے ہو کہ لاہور پہنچا ہے۔ہوائی جہاز والوں کی روایت کے مطابق ہر طرف تباہی دیمہ بادی کے آثا نہ پائے جاتے ہیں مقامی مسلمان مسجدوں میں ٹھیرے ہوتے ہیں" سے۔پھر اسی اخبار" نوائے وقت نے حضرت امیرالمومنین المصلح الموعود کی پریس کانفرنس میں بیان فرمودہ قادیان کی موجودہ صورت حال کے تعلق ذکر کرتے ہوئے لکھا :- قادیان اور حکومت ہندوستان مرزا بشیر الدین محمود احمد کی پریس کانفرنس لا ہو نہ ۶ اکتوبه - مرزا بشیر الدین محمود احمد امیر جماعت احمدیہ نے آج شام کو ایک پریس کا نفرنس میں اخباری نمائندوں کو قادیان کی موجودہ صورت حال سے آگاہ کیا۔مرزا صاحب نے بتایا کہ قادیان میں استاد کا حملے ابھی تک ہو رہے ہیں۔پناہ گزینوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔سے نوائے وقت در اکتوبر کا اللہ صفحہ ۱ :