تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 233
عام گرفتاریاں پولیس جس شخص کو چاہتی ہے گرفتار کرلیتی ہے۔چنانچہ اس وقت تک قادیان کے پچاس آدمیوں کے وارنٹ نکل پچکے ہیں اور اگر دریافت کیا جائے تو کوئی جواب نہیں ملتا اور ادھرادھر جھوٹے الزام لگا کر ٹال دیا جاتا ہے۔ہر طرف اندھیرا جوگندر نگر کی بجلی فیل ہو جانے سے قادیان میں تین دن سے اندھیرا رہا۔وہاں تیل بھی نہیں ہے بعض ضروریات زندگی تو پہلے ہی ختم ہو چکی ہیں۔آٹا اور گندم رہ گئی تھی اس پر پولیس کا جبر و تشدد نازل ہو چکا ہے۔آٹے کی چکیاں نہ چلنے کی وجہ سے شدید مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ظلم و ستم کا دور قادیان کے ارد گرد چاروں طرف سیکھ ہی سکنہ آباد ہیں۔سکھ پولیس اور ہندو منڈی کے ظلم و ستم انتہار کو پہنچ چکے ہیں۔وہاں جو ٹرک بھاتے ہیں۔ملٹری کینسان ان کے پھلنے میں دیر کراتا ہے تاکہ اندھیرا ہو جائے اور سکھوں کے سبھوں کو ان پر حملہ آور ہونے کا موقعہ مل سکے۔ملٹری کے سپاہی شرابیں پی کہ قادیان میں پھرتے ہیں اور پناہ گزینوں کی لڑکیاں اُٹھا کہ لے جاتے ہیں جن میں سے بعض کو واپس لایا گیا ہے۔خاکروپوں کی دھمکی ۲۹ ستمبر کی رات کو پولیس نے خاکروبوں کو دھمکی دی کہ اگر تم نے مسلمانوں کے مکانوں کی صفائی کا کام نہ چھوڑا تو ہم تمہارے ساتھ بہت برا سلوک کریں گے۔نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ قادیان پچاروں طرف سے گھیرے میں آیا ہوا ہے اور اس ماحول میں رہتے ہوئے بھی آدمی کا دل گھبرانے لگ جاتا ہے اور اس پر موت کا ہیبت ناک اساس طاری ہو جاتا ہے۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ قادیان کا مسئلہ مغربی پنجاب کی حکومت براہ راست اپنے ہاتھ میں لے۔عورتوں بچوں اور بوڑھوں کا اخراج بہت ضروری ہے پہرہ دیا جا رہا ہے۔