تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 223
۲۲۱ اور مسلمانوں کی انتہائی دیانت داری میرے لئے از حد تعجب کا باعث ہوئی۔دارالعوام میں ہنڈرسن اور سٹر کے اعلانات نے بھی حالات پر بہت بڑا اللہ ڈالا اور سکھوں کو غیر ضروری طور پر دلیر بنا دیا۔پنجاب کی تقسیم ہر حالت میں سکھوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ہر شخص کو اُن کی اس حالت پر افسوس ہوتا ہے لیکن خود کرده را چاره نیست۔آپ نے ہندو سکھوں اور مسلمانوں کے کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔اول الذکر کا کیس سرمایہ داری اور موخر الذکر کا کیس انسانیت پر مبنی تھا۔ڈاکٹر صاحب نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایوارڈ میں مسلم اکثریت کے علاقوں کی تحصیلوں کو تقسیم کر کے ہندوستان میں شامل کر دیا گیا۔مزید اچھوتوں، عیسائیوں اور اینگلو انڈینوں کو ان کی مرضی کے خلاف ہندوستان کے رحم و کرم پر ڈال دیا گیا۔آپ نے کہا کہ سعد بندی کے مسئلہ کو دوبارہ اُٹھایا جائے۔میرے خیال میں بیاس سے اس طرف کا تمام علاقہ پاکستان میں شامل ہونا چاہیے۔گورداسپور مسلم اکثریت کا علاقہ ہے۔سر سیرل نے سکھوں کے جذبہ جنگ کی تسکین کے لئے اسے سیکھوں اور سہندووں کے حوالے کر دیا۔لیکن سکھوں نے پھر بھی فتنہ پردازی کی جو طے شدہ سکیم کے مطابق معلوم ہوتی ہے۔مسٹر وکٹر نسڈ (ایڈیٹر ریلیجین نے برطانیہ کو تمام فسادات کا ذمہ وار ٹھہرایا۔مسٹر بیڈ فورڈ ریٹائرڈ چیف انجنیئر کینال پنجاب نے پر جوش تقریر میں کہا۔میں سکھوں کو اچھی طرح بھانتا ہوں۔ان کا واحد علاج رائفل ہے۔اگر حکومت پاکستان نے مزید نرمی سے کام لیا تو یقین جانئے سکھوں کا اگلا قدم مغربی پنجاب میں ہو گا۔چوہدری مشتاق احمد باجوه امام لندن ماسک نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا تے مسلمانوں کو منظم ہونا چاہیئے وگرنہ سپین کی طرح ہندوستان میں بھی ان کا برا حال ہوگا۔" اخبار "زمیندار" نے اپنے نامہ نگار خصوصی کی ایک اور رپورٹ مع اپنے تعارفی نوٹ کے حسب ذیل الفاظ میں شائع کی :- اس وقت جبکہ مشرقی پنجاب کے تمام اضلاع قریباً مسلمانوں سے خالی ہو چکے ہیں لے "زمیندار" ۲۵ ستمبر ۱۹۴۷ صفحه ۱ :