تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 222
۲۲۰ خود ستر کی پکٹ تھی۔انہوں نے اسے روک لیا۔اس کی رائفل بھی لے لی اور اس کو گرفتار کر لیا۔اس کی تلاشی سے قادیان پر حملہ کے پروگرام کا کا غذ یہ آمد ہوا۔قادیان میں اس وقت قریباً ایک لاکھ پناہ گزین موجود نہیں جو اس طرف کے علاقہ سری گویند پور وغیرہ سے اور ضلع ہوشیار پور سے جمع ہوئے ہیں۔خوراک وغیرہ کی از حد تکلیف ہے سیکھ سمجھتے کھلم کھلا کیمپ میں چکر لگاتے رہتے ہیں اور پناہ گزینوں کا قیام بالکل غیر محفوظ ہو چکا ہے اس واسطے گزارش ہے کہ اس کیمپ کے تمام پناہ گزینوں کو جلد سے جلد نکال لیا بجائے ورنہ ممکن ہے کہ کسی وقت حملہ آور تمام کے تمام پناہ گزینوں کا کسی وقت خاتمہ کر دیں۔۔۔الا " - اخبار" "زمیندار نے اپنی ۲۴ ستمبر ۹۴ہ کی اشاعت میں سید غلام مصطفے شاہ خالد گیلانی آف راولپنڈی کا جہاد کشمیر کی اہمیت“ کے عنوان پر ایک مضمون شائع کیا جس میں قادیان کی مثال پیش کرتے ہوئے لکھا تھا کہ :- " صبح و شام امن امن کا وظیفہ کرنے والے عاقبت نا اندیش لوگ مجھے بتائیں کہ میں قوم کی کم و بیش بیس ہزار ہو بیٹیاں اور مائیں بہنیں اختیار کے قبضہ میں ہوں اور اغیار بھی وہ جن کا تہذیب و شرافت کی تاریخ میں نام ونشان تک نہ ہو وہ قوم ہجرت کرنے میں حق بن اب ہے! ہرگز نہیں۔۴۵ لاکھ مسلمان اگر مقابلہ کا ارادہ کر لیتے تو صورت معالات بالکل مختلف ہوتی۔قادیان کی مثال ہمارے سامنے ہے “ اخبار "زمیندار" نے اپنی ۲۵ ستمبر شعلہ کی اشاعت کے صفحہ اول پر حسب ذیل خبر دی :- موجودہ فسادات کی ذمہ داری سکھوں پر عائد ہوتی ہے بیاس کا تمام مغربی علاقہ پاکستان میں شامل ہونا چاہیئے لندن ۱۲۳ ستمبر ڈاکٹر او۔انچ کے سپلیٹ آن لندن سکول آف اکنامکس نے لندن ماسک میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب باؤنڈری کمیشن ایوارڈ یک طرفہ اور لغو تھا۔ڈاکٹر پیٹ حال ہی میں ہندوستان سے واپس آئے ہیں جہاں وہ حد بندی کمیشن میں قادیان کے نمائندہ کے طور پر پیش ہوئے تھے اور مسلم لیگ ن کے غیر سرکاری مشیر تھے۔ڈاکٹر سپیٹ نے کہا، کانگریس نے سکھوں کو اپنا آلہ کار بنایا اور انہیں لڑائی پر آمادہ کیا۔ہندو اور سکھوں کی انتہائی چالباز یا