تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 208
۲۰۶ مجمع گڑھیوں کی طرح حملہ کرنے کے لئے پر تول رہا تھا اور بوڑھے بیکس مسلمان کو محض اس لئے کہ وہ مسلمان تھا اس کا اور کوئی قصور نہ تھا، ابھی ابھی قتل کر چکا تھا اور اس کے خون کے قطرے ان سکھوں کی تلواروں سے ٹھیک رہے تھے ہو دوسرے مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے ان کے پیچھے بھاگ کر آتے ہوئے زد میں آچکے تھے اور ان کا زندہ بیچ کر واپس چلا بجانا ممکن نہ تھا۔ان کو ٹھکانے لگا دینا بالکل آسان تھا۔لیکن ایسے وقت میں ہمارے نوجوانوں نے جوش کو دبایا اور تعمیل محکم کے جذبہ کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے نظم اور ضبط کے احتلام کا قابل ستائش ثبوت دیا۔یہ سُورمے سکھ جو ایک بوڑھے اور بیمار کو بیٹھے ہوئے قتل کر کے اور ہمارے چند چھوٹی عمر کے نوجوانوں کو دیکھ کہ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ نکلے تھے جب اپنے مجمع میں واپس پہنچے تو وہاں کچھ غیر معمولی حرکت نظر آنے لگی۔کچھ سیکھ ادھر ادھر منتشر ہوتے بھی نظر آئے مگر پولیس نے اُن پر قابو پا لیا اور اُن کے اُکھڑتے ہوئے قدم پھر ٹھہر گئے۔" نے اُن پالیا اور ان ے پولیس اور ملٹری کی معیت میں سیکھوں کا حملہ اور انتہائی مظالم ۳ اکتوبر کو جب سکھوں نے محلہ دارالرحمت کے قریب کے کھیت میں ایک بوڑھے بیمار پاخانہ بیٹھے ہوئے پناہ گزین مسلمان کو قتل کر دیا اور بعض اور کو قتل کرنے کے لئے اُن کے پیچھے بھاگے تو اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ شرارت کا آغاز کریں اور لوگوں کو خوفزدہ کر کے مکانات خالی کر دینے پر مجبور کر دیں۔لیکن جب حملہ آوروں نے دیکھا کہ احمدی نوجوان آبادی کے اندر مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں تو بھاگ کر اسی مجمع میں چلے گئے جس سے نکل کر آئے تھے اور وہاں کچھ دیر پہلچل مچی رہی۔اس دوران میں پولیس اور ملٹری دوسری طرفت سے محلہ میں داخل ہو گئی اور کثرت سے گولیاں پھلانے لگی۔ادھر محلہ کی گلیوں میں اور پناہ گزینوں کے آس پاس ملٹری اور پولیس گولیاں پھلا رہی تھی ادھر میں نے دیکھا کہ سکھ غنڈوں کے مجمع سے قطاریں باندھ کر سکھ مختلف اطراف سے محلہ کی طرف بڑھنے لگے یہ لوگ مختلف قسم کے ہتھیاروں سے مسلح تھے جن میں سے تلواریں اور برچھیاں خاص طور پر نمایاں تھیں سوار اور پیدل پولیس ان کے پاس کھڑی یہ سب کچھ دیکھ رہی تھیں۔مگر وہ بھی " الفصل " تم نبوت / نومبر۔