تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 207
۲۰۵ آبادی میں آگئے سکھ گندی گالیاں بکتے ہوئے ان کے پیچھے دوڑے لیکن یکا یک تھوڑی دور جا کر ٹھٹکے اور پھر سر پر پاؤں رکھ کر پیچھے کو بھاگ آئے۔آگے بڑھنے اور آبادی میں گھسنے کی انہوں نے جرات نہ کی۔اس کے متعلق معلوم ہوا کہ ان قانوں کا شور و شهر شنکہ ہمارے چند جال نشار نوجوان اس مورچہ پر پہنچ چکے تھے جس کے پاس سے وہ سکھ قتل و خونریزی کے ارادہ سے آبادی میں داخل ہو سکتے تھے سکھوں کی نظر جب اُن پر پڑی تو آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کو بھاگنا انہوں نے ضروری سمجھا۔احمدی ندائیوں کو یہ سخت ہدایت تھی کہ وہ نہ تو آبادی سے باہر نکل کر سکھوں پر حملہ کر یں اور نہ بھاگتے ہوئے سکھوں کا تعاقب کریں بلکہ اپنے مور پھر میں رہ کر یا پھر محلہ کی گلیوں میں خود حفاظتی کا فرض ادا کریں اور اس خوبی سے ادا کریں کہ جہاں اس کی ادائیگی کی ضرورت پیش آئے وہاں سے کامیابی یا شہادت ہی ان کے قدم ہٹائے کسی صورت میں انہیں ہٹنے کا خیال تک نہ آئے۔ہمارے مجاہد نوجوانوں نے بڑی خوشی اور بیحد جوش کے ساتھ یہ عہد کر رکھا تھا اور وہ اسے پورا کرنے کے لئے ہرلمحہ تیار تھے ورنہ ان کے لئے حملہ آور دشمن کا اور ایسے کمینہ اور انسانیت کش دشمن کا آبادی سے نکل کر مقابلہ کرنا کوئی مرعوب کن بات نہ تھی جو عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں تک کو بے دریغ قتل کر دینا اپنا بڑا کارنامہ سمجھتا تھا اور جو پاخانہ بیٹھے ہوئے بیخبر بیمار اور بوڑھے انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے میں ذرابھی شرم محسوس نہ کرتا تھا لیکن اپنے نفس پر قابو رکھنے، قانون کا زیادہ سے زیادہ احترام کرنے اور مسلمانوں کے خلاف بھری ہوئی ملٹری اور فوج کو ظلم وستم میں غیر معمولی اضافہ کرنے کا حتی الامکان کوئی موقع نہ دینے کی خاطر احمدی مجاہدین کی اس ہدایت پر عمل کیا کہ وہ کسی حالت میں بھی بھاگتے ہوئے حملہ آوروں کا آبادی سے باہر جا کر تعاقب نہ کریں ورنہ اس ہدایت کی پابندی نہ کرنے والے دشمن کے ہاتھوں اگر کوئی نقصان اُٹھائیں تو نہ صرف اس کی کوئی قدر نہ کی جائے گی بلکہ ایسے لوگوں کو سلسلہ کی طرف سے بھی سزا دی جائے گی۔یہ تھی وہ ہدایت اور وہ ارشاد جس نے ہمارے عزیز نوجوانوں کو مقررہ جگہ سے ایک انچ بھی آگے بڑھنے نہ دیا ورنہ وہ منظر جو اس وقت پیش نظر تھا کہ سکھوں کا ایک بہت بڑا