تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 193 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 193

191 رکھنے والا کوئی نہ ہوتا اور وہ اپنے دین کی حفاظت اور اسلام کا جھنڈا اونچا رکھنے کے لئے مرے ہیں۔اس لئے حقیقتاً وہ زندہ ہیں۔اور آپ ہی زندہ نہیں بلکہ اپنے بہادرانہ کاموں کی وجہ سے آئندہ اپنی قوم کو زندہ رکھتے پہلے بھائیں گے۔ہر نوجوان کہے گا کہ جو قرآنی ان نوجوانوں نے کی وہ ہمارے لئے کیوں ناممکن ہے۔جو نمونہ انہوں نے دکھایا وہ ہم کیوں نہیں دکھا سکتے۔بخدا کی رحمتیں ان لوگوں پر نازل ہوں اور ان کا نیک نمونہ مسلمانوں کے خون کو گرماتا رہے اور اسلام کا جھنڈا ہندوستان میں سرنگوں نہ ہو۔اسلام زندہ باد ! محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زندہ باز ! خاکسار مرزائی مود احمد سیدنا الصلح الموعود کے خطبہ مجھ میں اب ہم بین الصلح المولد کے ایک خطبہ جمعہ ( فرمودہ مار راق ادیان کا درد انگیز ذکر مارا کوبری یہ ہی کا ایک اقتباس نقل کرتے میں میں الغادر سیٹ) کیا گیا تھا۔حضور نے فرمایا :- میں شہدائے قادیان سے ہونے والے بہیمانہ سلوک کا تذکرہ دو آج ایک عرصہ کے بعد قادیان سے جو خطوط موصول ہوئے ہیں ان سے اور اُن آنے والوں سے جو پچھلے ایک دو دن میں یہاں آئے ہیں وہ حالات معلوم ہوئے ہیں جو گذشتہ چھ دنوں میں گورنمنٹ کے مقامی نمائندوں نے قادیان میں پیدا کر دیئے تھے اور جن کی مثال شاید میرا نے زمانہ کی وحشی اقوام میں بھی نہیں ملتی۔ہمارے دو سو سے زیادہ احمدی مارے گئے ہیں اور ان کی لاشیں بھی ہمارے حوالے نہیں کی گئیں بلکہ گڑھے کھود کر ان کو خود ہی دفن کر دیا گیا ہے۔جنرل تھمایا جو الیسٹ پنجاب گورنمنٹ میں بھالندھر ڈویژن کے افسر ہیں وہ بعض احمدیوں کے ساتھ ایک سکیم کے ماتحت جب قادیان گئے تو انہوں نے کہا ہماری رپورٹیں تو یہ ہیں کہ تھیں کے قریب احمدی مارے گئے ہیں اور جب انہوں نے افسروں سے پوچھا کہ کتنے احمدی مارے گئے ہیں تو انہوں نے بھی کہا ٹھیک ہے میں احمدی مارے گئے ہیں۔اس وقت ہمارے لوکل نمائند " الفضل اضاء / اکتوبر مش صفحه ۱-۲ ❤ F-1