تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 179 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 179

144 کے وفد نے ہندوستان کے ہائی کمشنر مسٹر سری پر کاش صاحب سے کراچی میں ملاقات کی اور ان کو یہ واقعات بتائے۔انہوں نے کہا میں نے ہندوستان یونین کو اس طرف توجہ دلائی ہے اور دو تاریں اس کے متعلق دی ہیں مگر مجھے جواب نہیں ملا۔احمدیہ جماعت کا وفد اس مرمر ر حاشیه متعلقہ صفحہ گذشتہ) حضرت سیدنا الصلح الموعود نے "سیر روحانی " میں اس ملاقات کا ذکر درج ذیل سید “ الفاظ میں فرمایا ہے:۔چنانچہ جب پارٹیشن ہوئی تو میں جو پہلے اس طرف آیا ہوتی اس غرض سے آیا تھا کہ پنڈت نہرو صاحب یہاں آئے ہوئے تھے۔میں نے سمجھا کہ اس سے جا کر بات کروں کہ یہ کیا ظلم ہو رہا ہے سٹرار شوکت بیت صاحب کے ہاں وہ کا وہ ٹھہرے تھے میں نے انہیں ملنے کے لئے لکھا تو انہوں نے وقت دے دیا۔لیکں نے ان سے کہا ہم قادیان میں ہیں۔گاندھی جی اور قائد اعظم کے درمیان سمجھوتہ ہوا ہے کہ تو ہندو ادھر رہے گا وہ پاکستانی ہے اور جو مسلمان ادھر رہ جائے وہ ہندوستانی ہے اور اپنی اپنی حکومت اپنے اپنے افراد کو بچائے اور وہ لوگ جو حکومت کے وفادار رہیں قائد اعظم اور گاندھی جی کے اس فیصلہ کے مطابق ہم چونکہ ہندوستان میں آرہے ہیں اس لئے ہم آپ کے ساتھ وفاداری کرنے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ آپ ہمیں سہندوستانی بنائیں اور رکھیں۔وہ کہنے لگے ہم تو رکھ رہے ہیں۔میں نے کہا۔آپ کیا رکھ رہے ہیں۔فسادات ہو رہے ہیں۔لوگ دار رہے ہیں۔قادیان کے ارد گرد جمع ہو رہے ہیں مسلمانو کو مارا بھا رہا ہے۔کہنے لگے۔آپ نہیں دیکھتے ادھر کیا ہو رہا ہے۔میں نے کہا ادھر جو ہو رہا ہے وہ تو میں نہیں دیکھ رہا میں تو اُدھر سے آیا ہوں لیکن فرض کیجئے ادھر جو کچھ ہو رہا ہے ویسا ہی ہو رہا ہے تب بھی میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ یہاں کا جو ہندو ہے وہ تو پاکستانی ہے اور اس کی ہمدردی پاکستان گورنمنٹ کو کرنی چاہئیے۔ہم ہیں ہندوستانی آپ کو ہماری ہمدردی کرنی چاہئیے۔اس کا کیا مطلب کہ یہاں کے ہندوؤں پر سختی ہو رہی ہے تو آپ وہاں کے مسلمانوں پر سختی کریں گے۔کہنے لگے۔آپ جانتے نہیں لوگوں میں کتنا بوش پھیلا ہوا ہے۔میں نے کہا۔آپ کا کام ہے کہ آپ اس جوش کو دبائیں۔بہر حال اگر آپ مسلمانوں کو رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو ان کی حفاظت کرنی پڑیگی۔وہ کہنے لگے ہم کیا کر سکتے ہیں لوگوں کو ہوش اس لئے آتا ہے کہ آپ کے پاس ہتھیار ہیں۔آپ نہیں کہیں کہ جو ہتھیار نا جائز ہیں وہ چھوڑ دیں۔میں نے کہا آپ یہ تو فرمائیے میں ان کا لیڈر ہوں اور میں انہیں کہتا رہتا ہوں کہ محروم نہ کر دو شرار نمی کرد خا نہ کرو۔اگر کسی نے نا جائزہ ہتھیار رکھا ہوا ہے تو کیا وہ مجھے بتا کہ رکھے گا۔میں تو انہیں کہتا ہوں شرم نہ کرو۔نہیں وہ تو مجھ سے چھپائے گا اور جب اس نے اپنا ہتھیار مجھ سے چھپایا ہوا ہے تو میں اسے کیسے کہوں کہ ہتھیار نہ رکھے۔کہنے لگے آپ اعلان کر دیں کہ کوئی احمدی اپنے پاس ہتھیار نہ رکھے۔میں نے کہا۔اگر میں ایسا کہوں تو ربقیہ حاشیہ انکے صفحہ پیا