تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 171 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 171

149 کی لاشوں کو اُٹھانے کے لئے آگے بڑھے تو وہ بھی گولی کا نشانہ بنا دیئے گئے۔۴ اکتوبر ۱۹۴۷ مر - سٹار ہوزری قادیان کے مال کو لوٹ لیا گیا جس میں بیش قیمت اون اور لا تعداد جرابیں اور سویٹر اور کمبل وغیرہ شامل تھے اور یہ نوٹ مالہ مقامی مجسٹریٹ کی آنکھوں کے سامنے ہوئی۔هر اکتوبر ۱۹ ه۔بیرونی پناہ گزینوں کا دوسرا پیدل قافلہ قادیان سے روانہ ہوا۔اس قافلہ میں قریباً دس ہزار مسلمان شامل تھے اور کچھ راکت بڑے حمل میں وادی میں شہید ہو چکے تھے۔یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس قافلہ بچہ راستہ میں کیا گزری۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کے بورڈنگ میں محصور شدہ احمدیوں سے ہندو ملٹری نے جبر بیگار لی اور ان کے سر پہ کھڑے ہو کہ پناہ گزینوں کے چھوڑے ہوئے سامانوں کو اکٹھا کروا کر مختلف مقامات پر پہنچانے کے لئے مجبور کیا۔اس قسم کی بیگار کئی دن کی بجاتی رہی۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کی عمارت پر معہ اس کے سامان کے قبضہ کر لیا گیا۔جماعت احمدیہ کا مردانہ اور زنانہ نور ہسپتال جبرا خالی کروالیا گیا اور بیماروں اور زخمیوں کو بڑی البقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ گولیکی پہنچی۔مرحوم نے لکھا حضور کا حکم ہے کہ عورتوں اور بچوں کو بھیجدو اور خوب ڈٹ کر مقابلہ کرو ہم تو حضور کے حکم کے مطابق سخون کا آخری قطرہ بہانے کے لئے یہاں بیٹھے ہیں حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب بی۔اے بی۔ٹی ناظر ضیافت نے ان کی وفات پر اپنے تاثرات کا اظہار درج ذیل الفاظ میں فرمایا : " قریشی صاحب مرحوم واقعی نہایت صالح مخلص نوجوان احمدی تھا۔اپنی شب و روز محنت وستی سے جو سلسلہ عالیہ کی خدمت میں اپنے فرائض ادا کرتے ہمیں اپنا گرویدہ بنا لیا۔رات کے دس دس بجے تک کام کرتے رہتے اور صبح تہجد کے لئے بھی جاگتے اور نماز فجر کے بعد فوراً جملہ انتظامی امور کی طرف متوجہ ہو جاتے۔دراصل ہر وقت فرائض مفوضہ کے ادا کرنے میں مستعد رہتے " افضل فتح بالای صفحه ) کالم ) صدر انجین احمدیہ پاکستان کی رپورٹ ہش میں لکھا ہے :- وہ دن رات مہمان خانہ کے اندر رہتے اور تہانوں کی ضروریات کو پورا کرنے میں بہت دلچسپی لیتے تھے مگر افسوس کہ ہر اکتوبر کی صبح کو جبکہ وہ اپنے فرائض ادا کر کے کرفیہ دو گھنٹے اُٹھ جانے کی وجہ سے باہر محلہ میں جانے کے لئے قصد کرتے ہوئے بھائی محمود احمد صاحب میڈیکل ہال کی دکان سے گزر رہے تھے کہ ایک ظالم سکھ سپاہی نے انہیں گوئی کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا " (صفحہ ۳۴) چونکہ بھارت کی حکومت یہ ظاہر کرنا چاہتی تھی کہ اس کے ہاتھوں بہت کم نقصان ہوا ہے اس لئے مرحوم کو نواب پتال کے ایک گڑھے میں دبا دیا گیا جہاں اب کتبہ بھی نصب کر دیا گیا ہے شہید نے بوڑھے والدین ، جوان بیوه سنت ڈاکٹر عمر بن هضا افریقی ساکن گجرات) دو بیٹے (خلیل احمد اور نعیم احمد ) دو بھائی (پیر محمد عالم صاحب پر حمید عالم سجاد صاحب) اور میں نہیں بطو زیاد گار چھوڑیں خلیل احم صاحب جو حادثہ شہادت کی وقت تین برس کے تھے اب گورنمنٹ مڈل سکول گولیکی میں جماعت ہشتم کے انچارج ہیں اور نعیم احمد صاحب ایک اور وو کی عمر میں یتیم رہ گئے تھے ان دنوں کھاریاں چھاؤ