تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 170 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 170

۱۶۸ ۱۴ سے معزف احمدی مردوں کو اپنے ہاتھ سے جھکیاں چلانی پڑیں۔یہ دن وہ تھے جبکہ دار مسیح اور مدرسہ احمدیہ میں ٹھہرے ہوئے لوگ ان احمدیوں سے بالکل کٹے ہوئے تھے ہو تعلیم الاسلام ہائی سکول کے بورڈنگ میں محصور تھے کیونکہ درمیانی راستہ بالکل بند اور خطرناک طور پر مخدوش تھا۔انہی ایام میں نواب محمد علی خاں صاحب مرحوم کی کونٹی دار السلام اور عزیزم مکریم میاں شریف احمد صاحب کی کو بھٹی پر تبرا قبضہ کر لیا گیا۔اکتوبر ائر - قادیان میں جمع شدہ پناہ گزینوں میں سے چالیس ہزار انسانوں کا پہلا پیدل قافلہ قادیان سے علی الصبیح روانہ ہوا۔ہندو ملٹری ساتھ تھی لیکن ابھی یہ قافلہ قادیان کی حد سے نکلا ہی تھا کہ سکھ جمعوں نے حملہ کر دیا اور چھ میل کے اندر اندر کئی سو مسلمان شہید کر دیئے گئے۔اور بہت سی عورتیں اغوا کر لی گئیں اور جو رہا سا سامان مسلمانوں کے پاس تھا وہ لوٹ لیا گیا۔دیکھنے والے کہتے ہیں کہ کئی دن بعد تک نہر کے ساتھ ساتھ میل با میل تک لاشوں کے نشان نظر آتے تھے لہ اکتوبر کو کوفیہ اٹھنے کے بعد جب بعض بیرونی محلوں میں رہنے والے احمدی اپنے مکانوں دیکھ بھال کے لئے باہر جانے لگے تو بڑے بازار کے اختتام پر جو ریتی چھلہ سے ملتا ہے ، عین دن دہاڑے بر سر بازار سات احمدیوں کو گولی کا نشانہ بنا کر شہید کر دیاگیا۔ان لوگوں میں میاں سلطان عالم بی اے معاون ناظر ضیافت بھی تھے۔اور جب بعض لوگ شہید ہونے والے احمد یو نے اتفاق کی بات یہ ہے کہ اس روز قادیان سے لاہور کے فون کا کنکشن بھی مل گیا جسے کئی ذریعہ قادیان اور اس الہ پر حملہ کی خبر پاکستان پہنچی اور پاکستان ریڈیو سے نشر کردی گئی جس پر ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے حکم سے پاکستان سے فون کے رابطہ کی براہ راست لائن کاٹ دی گئی ؟ ہ مرحوم کے والد ماجد قریشی شیر عالم صاحب ہی۔اسے بی۔ٹی لکھتے ہیں کہ تزیز سلطان عالم ۲۶ تنومبر 19 کو پیدا ہوا۔۱۹۳۷ ء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے درجہ اول میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔اس عرصہ میں تحریک جدید بورڈنگ میں داخل رہا اور باقاعدہ تہجد خواں ہونے کی وجہ سے انعام حاصل کرتا رہا۔زمیندارہ کالج گجرات سے اعلیٰ درجہ دوم میں ایف اے پاس کیا اور ۲۰۰۸ کے مقابلہ کے امتحان میں کامیاب ہو کر ملازم ہو گیا۔دوران ملازمت میں ہی منشی فاضل کا امتحان پاس کر کے بھی اہے پاس کر لیا۔دو میں وصیت کی۔پھر حضور کے حکم کے ماتحت اپنی جائداد وقف کر دی۔جون شام میں مرحوم کہانی ۲۲ کی اپنی کے ہے میں معاون ناظر ضیافت کے فرائض کی انجام دہی کے لئے تعینات کیا گیا۔اپنی 19 ستمبر کے ارد کی چٹھی میں ہم تم کو ریقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ) !