تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 166 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 166

محلہ دار الانوار قادیان کے متعدد مکانوں کو لوٹا گیا۔ان مکانوں میں کوئل ڈاکٹر نویاء اللہ صاحب اسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل میڈیکل سروس پاکستان اور خان بہادر چودھری ابوالہاشم خان ایم۔اسے ریٹائرڈ انس کے با آف سکولز اور مولوی عبد الرحیم صاحب درد ایم۔اسے سابق امام مسجد لنڈن کے مکانات بھی شامل تھے۔۳۰ ستمبر ۱۹۴۷ئہ۔پولیس نے مقامی خاکروبوں کو حکم دے دیا کہ مسلمانوں کے گھروں میں صفائی کے لئے نبھائیں نہیں کی وجہ سے احمدیوں کے گھر بنجاست سے اُٹ گئے اور احمدیوں کو خود اپنے ہاتھ سے صفائی کا کام کرنا پڑا۔یکم اکتوبر تا چھ اکتوبر ہر بٹالہ کی ملٹریا نے پاکستان کی حکومت کے بھجوائے ہوئے لڑکوں کو یہ بہانہ رکھ کر قادیان سجانے سے روک دیا کہ قادیان کی سڑک زیر مرمت ہے۔اور جب ہمارے ٹرک بٹالہ میں رُکے تو اس پر سکھ مجھوں اور غیر مسلم ملٹری نے بل کو فائر کئے جس کے نتیجہ میں کئی آدمی زخمی ہوئے اور بعض کا پتہ ہیں اور ٹرک بھی جلا دیا گیا۔اس کنوائے میں میرا لڑکا مرزا منیر احمد بھی شامل تھا جو بٹالہ میں دو دن تک قیامت کا نمونہ دیکھنے کے بعد لاہور واپس پہنچا۔راستہ کے زیر تعمیر (بقیه حاشیه صفحه گذشته) مولوی عبد العزیز صاحب اور مولوی احمد خاں صاحب نیستیم دونوں گرفتار ہوئے۔ان کامنہ کالا کر کے دھاریوال کے بازاروں میں پھر آیا اور لوگوں سے پٹوایا گیا۔بقول مولوی احمدخاں صاحب کم از کم ایک ایک ہزار جو تا انہیں مارا گیا۔ان سے پوچھا جاتا تھا کہ تلاو۔۔۔۔۔( DUMPS ) ذخائہ اسلحہ کہاں کہاں ہیں ؟ اس طرح ہوتا سے تھاکہ۔تین ہفتہ تک انہیں بلائے تقریب میں مبتلا رکھا گیا اور جب انہیں جیل میں لایا گیا اور مجھے دیکھنے کا موقعہ ملا تو نہایت ہی قابل رحم حالت میں پایا گیا۔ان دونوں نے میرے قتل کا قابل رشک نمونہ دکھایا۔فجر ہم اللہ احسن الجزاء مہماری آنے والی نسلوں کے لئے ان کا نمونہ مسبر و تقبل بطور نیک یاد کے انشاء اللہ قائم رہے گا " ے اخبار الفضل نے سکوڑی انصارا ایسانہیں کے حوالہ سے اس کنوائے کی حسب ذیل خبر شائع کی :- جمعرات کو ایک کنوائے قاریان کے مسلم پناہ گزینوں کو نکالنے کے لئے روانہ ہوا۔یہ کنو نے ۳۳ لڑکوں کے مشتمل تھا۔دس فوجی ٹرک فوجیوں کے بال پور کو نکالنے کے لئے، وہ فوجی ٹرک : سول ڈڑک عام مسلم پناہ گزینوں کو نکالنے کے لئے بھی گئے تھے۔یہ سب ارک مغربی پنجاب کے غیر مسلم پناہ گزینوں کولے کر گئے تھے۔جب یہ کنوائے بٹالہ پہنچا تو اسے روک لیا گیا اور سول ٹرک پناہ گزینوں کے کیمپ میں بھیج دیئے گئے چند ایک ٹرکوں نے قادیان بھانے کے لئے اصرار کیا۔انہیں کہا گیا کہ گورداسپور سیا کہ اجازت لے لو پہنی ہے یہ لوک گورداسپور پہنچے لیکن حکام نے یہ کہ کر قادیان جانے سے روک دیا کہ قادیان کی مشرک خواب ہے چنانچہ یہ ٹرک بٹالہ واپس آگئے اور وہاں سے مسلم پناہ گزینوں کو سوار کر لیا۔ابھی یہ ٹرک کیمپ سے باہر نکلے ہی تھے کہ ان پر گولیوں کی بارش ہونی شروع ہوئی۔بٹالہ پولیس اسٹیشن کے قریب پہنچنے پر (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ یہ