تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 165 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 165

147 اُٹھا کر لے گئی اور پناہ گزینوں کی پانچ لڑکیاں بھی پکڑ کر ساتھ لے گئی جنہیں بعد میں واپس کر دیا گیا۔۲۵ ستمبر ۱۹۴۷ - بھار مسلمان پناہ گزینوں کو جو مکان آشیانہ مبارک محلہ دارالا نوار میں پناہ لے کر بیٹھے ہوئے تھے پولیس نے گولی کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا اور ان کی عورتوں کو پکڑ کر لے گئی۔اس کے علاوہ دو مزید آدمی لاپتہ ہو گئے اور بعض زخمی ہوئے۔یہ واقعہ ۲۵ اور ۲۶ ستمبر کی درمیانی شب کو ہوا۔ستمبر 9ر - قادیان میں ٹھہرے ہوئے پناہ گزینوں کے علاوہ مقامی احمدیوں کے قریباً پانچ ہزار مویشی (مالیتی قریباً ۲۰ لاکھ روپیہ) پولیس کی امداد کے ساتھ سکھوں نے لوٹ لئے اور ان کے گڑے اور چھپکڑے بھی لے گئے جس کی وجہ سے وہ آئندہ پھلنے والے پیدل قافلہ میں اپنا سامان ساتھ رکھنے کے ناقابل ہو گئے۔پناہ گزینوں کے علاوہ مقامی احمدیوں کے متعدد مویشی بھی سیکھ حملہ آور کوٹ کر لے گئے۔۱۹۴۷ئ- ستمبر یه تا یکم اکتوبر مه- سر محمد ظفراللہ خان صاحب کی کوٹھی بیت الظفر واقع محلہ دارالا نوار قادیان کا تمام سامان رسوائے کچھ معمولی فرنیچر کے) ملٹری نے لوٹ لیا اور یہ ٹوٹ برابر پانچ دن تک بھاری رہی۔ملٹری کے ٹک رات کو آتے تھے اور کو بھٹی کا سامان سمیٹ سمیٹ کر لے بجاتے تھے۔کو بھٹی کے مویشی بھی ٹوٹ لئے گئے۔۲۹ ستمبر ۱۹۴۷ئه - مولوی احمد خان صاحب نسیم مولوی فاضل انچارج مقامی تبلیغ اور مولوی عبد العزیز صاحب (بھا مڑی) مولوی فاضل انچارج شعبہ خبر رسانی جماعت احمدیہ کو پولیس نے دفعہ ۳۹۶ و ۳۹۷ تعزیرات ہند کے ماتحت گرفتار کر لیا۔اور معلوم ہوا ہے کہ انہیں پولیس کی حراست میں سخت تے تکلیف دی بھاتی رہی ہے۔یہ وہ دن تھے جئے چودھری صاحب موصوف قائد اعظم محمد علی جناح کے ارشاد کے مطا نور یو این او میں شامل ہونے والے پہلے پاکستانی وفد کی قیادت فرمارہے تھے اور آپ کی کوٹھی (بیت الظفر میں بھامڑی کے مسلمان پناہ گزین تھے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صالات نظارت امور عامہ کی سالانہ رپورٹ (ہ) میں شعبہ کار خاص “ کے زیر عنوان لکھتے ہیں امہ مولوی عبد العزیز صاحب کو گذشتہ فسادات کے ایام میں پولیس نے بلاوجہ محض اس شعبہ کا انچارج ہونے کی وجہ سے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا اور ہنگامی اور انقلابی حالات کے ماتحت مولوی احمدرضا نیستیم فاضل مبلغ (برما)۔۔۔۔کو بھی مولوی عبد العزیز صاحب کے ساتھ اس ڈیوٹی پر کام کرنا پڑا۔(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)