تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 153
۱۵۳ چاروں طرف نظر رکھنے والی فوج کی ایک مسلح پارٹی مینار پر چڑھ گئی تھوڑی دیر میں ہی سید ناصر شاہ صاحب کے مکان اور سیدہ ام طاہر احمد مرحومہ کے مکان میں ملٹری اور پولیس گھس گئی اور چابیاں منگوا کر تلاشی شروع کرادی اور اس کے بعد تھوڑی دیر میں ام طاہر مرحومہ کے اُوپر والے صحن اور خلیل والے مکان اور لجنہ کے دفاتر میں بھی پولیس اور ملٹری پہنچ گئی اور پھر میرے مکان سے ہوتے ہوئے عزیز حمید احمد کے چوبارے میں جا پہنچی اور نگرانی کے لئے میرے مکان کے صحن میں ایک فوجی متعین کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف سے پولیس اور ملٹی نے داخل ہو کر مطالبہ کیا کہ حضور کا اوپر والا دفتر کھلوایا جائے کہ اس کی بھی تلاشی لی جائے گی بیچنا نچہ عزیز منور احمد کو بھیج کر دفتر کھلوا دیا گیا اور مرزا عبد الحق صاحب اور عزیزم منور احمد کی موجودگی میں حضور کے تینوں کمروں کی تلاشی ہوئی مگر کوئی چیز قابل اعتراض بر آمد نہیں ہوئی۔اس طاہر مرحومہ کے مکان میں سے حضور کی بندوق تلاش کرنے والوں نے طاہر کے پاس سے اپنے قبضہ میں کرلی اور لائیسنس کا مطالبہ کیا اور چونکہ اس وقت تک لائسینس نہیں ملا تھا جو تھوڑی دیر بعد عزیہ داؤد نے لاہور سے پہنچایا ، اس لئے بندوق اپنے ساتھ رکھ لی اور کہا کہ لائسنس دیکھنے کے بعد فیصلہ کریں گے۔اسی طرح عزیز حمید احمد کے چوبارے میں سے میاں محمد احمد کی ۲۲ بور بندوق تلاشی والوں نے اپنے قبضہ میں کر لی اور با وجود اس کے کہ لائین موجود تھا یہ جواب دیا کہ کپتان صاحب ناسینی دیکھ کر فیصلہ کریں گے بلا یز حمید احمد کے چوبارے سے صاحبزادہ عبدالحمید ٹوپی کے سوٹ کیس میں سے ایک ریوالور بھی برآمد ہوئی جس کا لایسنس بھی موجود تھا مگر سرسری مقابلہ میں ریوالور کا نمبر ائینس کے درج شدہ نمبر سے نہیں ملتا تھا۔یہ بھی ملڑی اور پولیس نے اپنے قبضہ میں کر لیا سید ناصر شاہ صاحب موالے مکان میں انگیٹی کے اندر سے برچھیوں کے بھالے نکلے اور چند بندوق کے کارتوس، یہ بھی قبضہ میں کرلئے گئے۔تحریک تجدید کے دفتر میں سے چند فوجی تھیلے یہ آمد ہوئے جو غالباً DISPOSAL سے خریدے ہوئے تھے ان پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔ان کے علاوہ کوئی چیز بر آمد نہیں ہوئی۔جن مکانوں کی تلاشی ہوئی وہ یہ ہیں۔(1) سیدہ ام طاہر احمد کا سارا مکان مع مکان خلیل احمد