تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 152
۱۵۲ کو لانے اور ضلع کے حکام سے ملاپ کرنے کے لئے بھیجا جائے گا۔حضور کا خط حضور کے تشریف لے جانے کے تین گھنٹے بعد شمس صاحب اور مولوی ولو العطاء صاحب کو پڑھا دیا گیا تھا اور شام کو جملہ صدر صاحبان کو پڑھا دیا گیا اور آج دو پہر کو مساجد میں سُنا دیا گیا۔اثر بہت اچھا ہے اور اس کی وجہ سے کوئی گھبراہٹ نہیں مگر تعجب کر رہے ہیں کہ کس طرح علم ہونے کے بغیر حضور تشریف لے گئے۔باقی سب خیریت ہے اور ہم سب دعا کے طالب ہیں۔فقط والسلام (دستخط) خاکسار مرزا بشیر احمد دوسرا مکتوب بسم الله الرحمن الرحیم سید نا حضرت امیر المومنین ایدکم اللہ تعالے السّلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاته امید ہے حضور کی طبیعت اچھی ہو گی۔آج کا دن کچھ ہنگامی رنگ میں گذرا مسبح چھ بجے ہی پولیس اور ماڑی احمدیہ چوک میں پہنچ گئی اور بڑے گہرے کھلوانے کے لئے آواز دی اور جب اس میں کچھ دیر ہوئی تو ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے مکان کی ساتھ والی دکانوں کی چھتوں پر سے کود کرہ احمدیہ چوک میں پہنچ گئے اور ہمارے مکانات کا چاروں طربیہ سے محاصرہ کر لیا۔اور اس کے ساتھ ہی تحریک بدید کے دفاتر اور سید ناصر شاہ صاحب، کے مکان کا بھی اور دیقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ سے پیش کو قادیان پہنچ گئے۔مرزا صاحب موصوت نے وہاں مسلم پناہ گزینوں کو پاکستان بھیجوانے کی قابل قدر خد ما انجام دی تھیں بلکہ عین اسی روز گورداسپور سے مسلمانوں کا آخری قافلہ جو تیرہ ہزار نفوس پر مشتمل تھا روانہ ہو چکا تھا اور آپ یہ خدمت پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد قادیان تشریف لائے تھے۔آپ کو گورداسپور کیمپ کے احمدی پناہ گزینوں کی امداد کے بھی متعدد مواقع ملے ؟ نے حضور کا یہ خط جو پیغام کی صورت میں تھا تاریخ احمدیت جلد دہم میں آچکا ہے ؟