تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 151 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 151

اها عند دو حضرت مرا بشیر هم صاحب معنی اش همه حضرت مرزا بشیر احمد صاح کے دو ہم مکتوب نے سیدنا الصلع الوجود کی ہجرت سے لیک ۱۶ ماه نبوت / نومبر ۳ مش تک (یعنی قادیان سے آنے والے آخری کنوائے تک کے حالات و واقعات کا ایک جامع اور حقیقت افروز خلاصہ روزنامچہ کی صورت میں تحریر فرمایا تھا۔قبل اس کے کہ آپ کا لکھا ہوا یہ اہم خلاصہ درج کیا جائے ہم آپ کے دو مکتوبات محالہ قرطاس کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔یہ دونوں خطوط حضرت مصلح موعود کے نام ہیں اور اس زمانہ کے ہیں جبکہ آپ حضور کے حکم سے قادیان میں امیر مقامی کے بھاری اور نازک فرائض بجالا رہے تھے۔ایک خط آپ کے دور امارت کا پہلا یاد گار خط ہے اور دوسرا آخری میں کے بعد آپ پاکستان میں تشریف لے آئے۔یہ شطیط جن سے اس دور کے بہت سے تلخ حقائق کی تصویر ہمارے سامنے آجاتی ہے درج ذیل ہیں:۔پہلا مکتوب قادیان دار الامان بسم الله الرحمن الرحيم سيدنا : السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔کل ساڑھے چھ بجے کے قریب حضور کی خیریت سے لاہور پہنچے بجانے کی اطلاع مل گئی تھی جس سے بھاری فکر دُور ہوا۔آج وقیع الونا صاحب کے ذریعہ زبانی پیغام بھی ملا۔آج قادیان کے ماحول میں پھر سکھوں کی نقل و حرکت زیادہ رہی۔کیونکہ ایک تو راستے خشک ہیں اور دوسرے مسلمان ملٹری وا میں بھا رہی ہے آج دو اتحادی جو سیکھواں سے قادیانی آرہے تھے کتنے اور سیکھوں کے درمیان سکھوں کے ہاتھ سے مارے گئے اور سٹھیالی پر بھی حملے کا آغازہ ہے۔کڑی متصل کا ہندوان کو سخت منظرہ لاحق تھا۔ملٹری نے ہمت کر کے پناہ گزینوں کو گورداسپور پہنچا دیا۔بھا میری میں کافی وسیع آغاز مینار سے دیکھی گئی۔عالمے کا گاؤں جلا دیا گیا اور لوگ اٹھ کر پھیر و چیچی میں گئے مگر ملٹری کی واپسی کی وجہ سے ، وہاں بھی بہت ہراساں ہیں۔آج کپٹن نمائے بٹائے گیا ہوا ہے اور ابھی تک ملٹری عمل واپس نہیں ہوئی کیونکہ اس سے چارج لینے والی ملٹری ابھی تک نہیں پہنچی۔شاہ صاحب واپس قادیان آگئے ہیں۔انہیں صبح گورداسپور مرزا صاحب ے نقل مطابق اصل کے مسلمان ملٹری کے انچارج " سے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب که یعنی مرزا عبد الحق صاحب ایڈوکیٹ امیر جماعت احمدیہ گورداسپور جو حضرت شاہ صاحب کے ساتھ ہر تبوک استمبر و بقیه حاشیه انگلے صفحہ پر)