تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 147 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 147

امیر المومنین نے اپنے اس مضمون میں جنگ احزاب کے دوران آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے وجود مبارک کے ساتھ صحابہ کرام کی فدائیت و وارفتگی کا اثر انگیز نقشہ کھینچنے کے بعد احمدیوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :۔" میں احمدیوں سے کہتا ہوں کہ جب وہ بیعت میں داخل ہوئے تھے تو انہوں نے اقرار کیا تھا کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کریں گے اور اس دنیا کے لفظ میں ان کی جانیں بھی شامل تھیں ان کے بچوں کی جانیں بھی شامل تھیں۔ان کی بیویوں اور دوسری گھر کی مستورات کا مستقبل بھی شامل تھا۔پس آج جبکہ با وجود ہمارے اس اعلان کے کہ ہم جس حکومت کے تحت رہیں گے اس کے وفادار رہیں گے ، ظالم دشمنوں کو ہم پر مسلط کیا جا رہا ہے حکومت ان کو سزا دینے کی بجائے ہمارے آدمیوں کو سزا دے رہی ہے۔ہماری جماعت کے نوجوانوں کا فرض ہے کہ وہ قطعی طور پر بھول بجائیں کہ ان کے کوئی عزیز اور رشتہ دار بھی ہیں۔وہ بھول بھائیں اس بات کو کہ ان کے سامنے کیا مصائب اور مشکلات ہیں۔انہیں صرف ایک ہی بات یاد رکھنی چاہیے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے ایک عہد کیا ہے اور اس عہد کو پورا کرتا ان کا فرض ہے۔آج خدا ہی ان کا باپ ہونا چاہئیے۔خدا ہی ان کی ماں ہونی چاہئیے اور خدا ہی ان کا عزیزہ اور رشتہ دار ہونا چاہیے۔میرے بیٹوں میں سے آٹھ بالغ بیٹے ہیں اور ان آٹھوں کو میں نے اس وقت قادیان میں رکھا ہوا ہے۔میں سب سے پہلے انہی کو خطاب کر کے کہتا ہوں اور پھر ہر احمدی نوجوان سے خطاب کر کے کہتا ہوں کہ آج تمہارے ایمان کا امتحان ہے۔آج ثابت قدمی کے ساتھ قید و بند اور قتل کی پروا نہ کرتے ہوئے قادیان میں ٹھہرنا اور اس کے مقدس مقامات کی حفاظت کرنا تمہارے فرض میں شامل ہے۔تمہارا کام حکومت سے بغاوت کرنا نہیں۔تمہارا کام ملک میں بدامنی پیدا کرنا نہیں۔اسلام تم کو اس بات سے روکتا ہے۔اگر حکومت ہم کو وہاں سے نکالنا چاہتی ہے تو حکومت کے وقیہ دانہ انسر ہم کو تحریمہ دے دیں کہ تم قادیان چھوڑ دو۔پھر ہم اس سوال پر بھی غور کر لیں گے۔مگر جیب تک حکومت کے ذمہ دار افسر منہ سے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم کسی کو یہاں سے نکالتا نہیں چاہتے اور ان کے نائب ہمیں دُکھ دے دے کہ اپنے مقدس مقامات سے نکالنا چاہتے ہیں