تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 129 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 129

۱۳۹ رضا بوئی میرا منتہائے مقصود میرا آقا مجھ سے راضی ہو اور میں اس سے۔آمین " آپ کی طرف خط لکھنے سے پہلے حضرت صاحب کی طرفت خط لکھ کے فارغ ہوا ہوں۔کہ خواہ قرعہ میرے نام نکلے بھی، میں قادیان ہی میں رہنا چاہتا ہوں۔سچ تو یہ ہے کہ جان وہی ہے جو اسلام اور احمدیت کے کام آئے۔یوں تو موت ہر کسی کے لئے مقدر ہے کوئی فرد بشر نہیں جو اس سے بچ سکا ہو تو اس سے ڈرنے کے کیا معینی۔یہ گھڑی آج نہیں تو کل ضرور آکر رہے گی۔پھر کیوں نہ اس بھان کو دین کی راہ میں نچھاور کریں۔ارا کتوبه 11 بجے شب" ۳- رشید احمد صاحب سیالکوٹی نے ایک خط اپنی والدہ صاحبہ کے نام بھیجا جس میں لکھا :- " جب آپ قادیان سے روانہ ہو رہی تھیں تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے مگر میں نے آپ سے یہ کہا تھا کہ اگر آپ ہم کو دیکھ کر دور ہے ہیں تو میں آپ سے نہیں بولوں گا۔۔۔۔۔ہمیں اب آپ سے زیادہ محبت اسلام اور احمدیت سے ہے۔آپ کا بیشک ہم پر بہت بڑا احسان ہے جو کہ زندگی بھر ہم نہیں بھلا سکتے اور ہم انشاء اللہ نہیں بھلائیں گے مگر آپ ذرہ بھر کے لئے سوچیں تو سہی کہ اگر ہم پیدا ہی نہ ہوتے تو پھر اب ہم جبکہ پیدا ہو گئے ہوئے ہیں اور اب ہم جوان ہیں اور خدا تعالٰی نے احمدیت کی خاطر صحیح معنوں میں قرانی مانگی ہے ہمیں بہت خوشی ہے" اسلام اور احمدیت کا مرکز قادیان اس وقت خطرہ میں ہے اور وہ ہم سے چاہتا ہے کہ ہم اس کی حفاظت کریں۔گو حفاظت مفدا تعالیٰ نے کرنی ہے ہم نے تو لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہوتا ہے۔میں میں آپ کو مطلع کر دینا چاہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں فساد نامی عورت نے اپنے تینوں بیٹوں سے کہا کہ جاؤ بیٹا اسلام کی خاطر تم لڑو۔یا تو تم لڑائی میں مارے جانا اور یا غازی ہو کر واپس لوٹنا۔اسی طرح وہاں تو عورت نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا۔میں تیرا بیٹا ماں سے کہتا ہوں کہ میں قادیان میں ہی رہوں گا اور تم کو اس وقت تک نہیں ملوں گا جب تک یا تو قادیان کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو جاؤں یا قادیان کو له " الفضل " ۲۴ اتحاور اکتوبر مش صفحه ۲