تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 128 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 128

۱۲۸ کا جھنڈا سرنگوں نہیں ہونے دیں گے۔اس حقیقت کا جائزہ لینے کے لئے ان ایمان افروز خطوط و مکاتیب کا مطالعہ کرنا کافی ہے جو اس زمانہ میں جوانان احمدیت نے سر زمین قادیان سے اپنے پیارے آقا سید نا أصلح الموعود یا اپنے دوسرے بندگوں یا عزیزوں کے نام لکھے۔ان میں سے بعض کے ضروری حصے ذیل میں نقل کئے جاتے ہیں :- ا۔ایک مخلص احمدی جوان نے سید نا حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود کی خدمت میں حسب ذیل مکتوب لکھا :- "قسم ہے اس خدا کی جس نے قادیان کو اشاعت اسلام کا مرکزہ بنایا ہے۔ہماری وہ رات جو پہرہ پر گزرتی ہے اس دن سے زیادہ پر سکون ہوتی ہے جو گھر میں گذرتا ہے۔ہمارے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ رات نبی ہو جائے اور دن کم ہو جائے۔رات کو ہم پہرہ دار خدا کے وعدوں کا ذکر کر کے اور موجودہ نشانات کو یاد کر کے اپنے دلوں کو نہایت مضبوط اور طاقتور بنا لیتے ہیں۔۔۔حضور ہماری استقامت کے لئے دعا فرمائیں “ لے ۲- ایک اور احمدی جوان نے اپنے والد کی تصدمت میں لکھا :- " اب تک مجھے چار مواقع پیش آچکے ہیں جن سے محض دست قدرت نے مجھے بچا لیا۔مگر بفضل خدا چاروں مواقع پر خون و سر اس میرے پاس تک نہیں پھٹکے بلکہ جوں جوں خطرہ بڑھتا جاتا توں توں میرا دل اور مضبوط ہوتا جاتا۔فالحمد للہ علی ذالک۔الغرض جب میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کا خیال کرتا ہوں تو میں کہہ سکتا ہوں کہ میں خوش بخرم ہوں۔البتہ جب کبھی ان مقامات مقدسہ اور دیار حبیب کے فراق کا خیال کرتا ہوں تو دل سے ایک آہ نکل جاتی ہے اور کہتا ہوں کہ میں اس مقدس بستی ہی کی حفاظت کرتے ہوئے اس امانت کو جو خدا تعالیٰ نے مجھے ودیعت کر رکھی ہے اس کے حضور پیش کر دوں۔تا اس منحوس گھڑی کو جو بظاہر قریب سے قریب تر ہوتی نظر آ رہی ہے نہ دیکھوں“ دعاؤں کی ضرورت ہے کہ اللہ کریم مجھے استقلال بخشے۔علوم ظاہری و باطنی اور نور ایمان سے منور کر کے خاتمہ بالخیر کرے۔آمین! میرا جینا اور میرا مرنا خدا ہی کے لئے ہو اور اس کی ۱۳۲۶ ش : الفضل " ۲۷ تبوک /ستمبر م :