تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 127
۱۲۷ سارا واقعہ سنایا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر میری ٹانگ کو کٹنے سے بچایا۔انہوں نے بتایا کہ ران کی ہڈی کا معائنہ کرنے کے لئے تمہارے زخم کو کافی گہرائی تک چیرا دیا گیا۔اگر بڑی کو گولی سے گزند پہنچا ہوتا تو پھر ٹانگ ضرور کاٹ دی بھاتی۔لیکن جب اکٹروں نے دیکھا کہ بڑی بالکل محفوظ ہے اور گولی ہڈی کے آس پاس گوشت میں ہی گھوم کر نیکل گئی تو ششدر رہ گئے کیونکہ ان کے تجربہ میں کبھی ایسا مجہ یہ کہیں نہیں آیا کہ گولی بڑی کے سیدھ میں داخل ہونے کے باوجود ہڈی کو نقصان نہ پہنچائے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ محض حضرت خلیفہ ایسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی دعاؤں کی برکت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس ناچیز اور حقیر بندے کو موت کے منہ سے نکال کر دوبارہ زندگی عطا فرمائی۔اب قافلہ کا حال سنئے۔جب ہمارا قافلہ پہلے ظالموں سے نکھ بچا کے واہگہ پہنچا تو یہاں تین ہزار غیر مسلم فوجیوں نے قافلہ کا استقبال بھری ہوئی رائفلوں سے کیا قریب تھا کہ ہمارا قافلہ ان خونخواروں کی گولیوں سے چھلنی ہو جاتا لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف فرمایا کہ عین اس وقت جبکہ وہ فائرنگ کے حکم کے منتظر تھے اللہ تعالیٰ نے بلوچ رجمنٹ کو فرشتہ رحمت بنا کہ وہاں پہنچا دیا۔لیں اس رجمنٹ کا پہنچنا تھا کہ ان لوگوں کے وحشیانہ ارادے خاک میں میں گئے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے قافلہ کو بال بال بچایا “ لے اہل وقتے قادیان کا مجاہدانہ عزم مسیح محدی کی خدا نما یستی اسلام اور محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ سل کے لاکھوں نشانوں کی تجلی گاہ تھی اور اسے اغیار کے حوالہ کر دینا اور بے مثال مخلص جذبات اسلام و احمدیت سے غداری اور ایمانی نخود کشی کے مترادف تھا جس کا تصور کوئی کمزور سے کمزور ایمان رکھنے والا احمدی بھی نہ کر سکتا تھا کجا یہ کہ اہلِ وفائے قادیان سے اس کی توقع کی جاسکتی۔ملت کے یہ فدائی اور شیدائی تو اس بارہ میں اس درجہ حساس واقع ہوئے تھے اور ان کے جذبات اخلاص و محبت کا تو یہ عالم تھا کہ وہ اس مجاہدانہ عزم کے ساتھ مرکزہ احمدیت میں دھونی رمائے بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے مگر قادیان میں اسلام له " الفرقان" ربوہ ستمبر ۱۹۹۴مه صفحه ۲۵-۰۲۶