تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 115 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 115

آٹھویں حصہ کا قرعہ ڈالا اور عشاق احمدیت دیوانہ وار رتن باغ پہنچنے لگے جہاں حضرت سید نا صلح المود نے مولوی ابو المنیر نور الحق صاحب ناظر انخلاء و آبادی کی زیر نگرانی ایک مستقل کیمپ کھلوا دیا اور انہیں باقاعدہ ایک نظام کے ساتھ قادیان بھیجوایا جانے لگا (احسان جون یہ بہش سے حفاظت مرکز قادیان کا مستقل صیغہ قائم ہوا جس کے نگران و منتظم سیدنا المصلح الموعود نے قمرالانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو مقر فرمایا جو آخر دم تک اس مینہ کے فرائض نہایت کامیابی سے انجام دیتے رہے؟ اگر چه شمع حق و صداقت کے یہ سب پروانے جو اپنے سینہ میں قادیان کی الفت و محبت کا شہر بسائے ہوئے ملک کے طول و عرض سے کچھچھے پہلے جا رہے تھے یکساں طور پر بجذ بہ خلوص و ارادت سے سرشار اور اپنی مثال آپ تھے مگر جماعت احمدیہ کراچی کے بعض جوانوں کا نمونہ ایسا خوشکن اور شاندار تھا کہ خود حضرت مصلح موعود نے ان کے ہوش ایمانی شوق قربانی اور روح ایمانی پر اظہار خوشنودی فرمایا اور اسے پوری جماعت کے لئے ایک قابل تقلید مثال قرار دیتے ہوئے (۱۲ تبوک استمبر اہ مہش کے خطبہ جمعہ کے دوران) ارشاد فرمایا :-۔۔۔۔جیسے کراچی کے دوستوں نے نمونہ دکھایا۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم قادیان جائیں گے اور چونکہ وہاں سرکاری محکموں میں احمدی زیادہ ہیں دفاتر وانوں نے سمجھا کہ اگر سب احمدی پیسے لے گئے تو کام بند ہو جائے گا اس لئے انہوں نے چھٹی دینے سے انکار کر دیا۔اس پر کئی احمدیوں نے اپنے استعفاء نکال کر رکھ دیئے کہ اگر یہ بات ہے تو ہم اپنی ملازمت سے مستعفی ہونے کے لئے تیار ہیں۔ایک اخبار جو احمدیت کا مشہور ترین نشیمن تھا میں نے خود اس کا ایک تراشہ پڑھا ہے جس میں وہ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ ہوتا ہے ایمان۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اخلاص کا نمونہ دکھایا۔یہ وہ لوگ ہیں جن کا عزت سے نام لیا جائے گا اور یہ وہ لوگ ہیں مین کا احمدیت کی تاریخ میں نام لکھا جائیگا ھے احمدی جوانوں کی جانیازی کا احمدی جوانوں کو پاکستان سے قادیان تک پہنچنے کے لئے کس طرح موت سے کھیلنا اور اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر جانا پڑتا تھا۔ایک نا قابل فراموش واقعہ آج کی دنیا اس کا تخیل و تصور کرنے سے قاصر ہے اس سلسلہ میں ه حاشیہ متعلقہ ھذا صفحہ ۱۱۴ پر درج ہو گیا ہے۔وہاں سے حاشیہ سے مطالعہ فرمائیں ہے " الفضل" ۳۰ تنبوک استمبر له مش صفحه ۲ کالم ۳ - ۴