تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 114
۱۱۴ اس مسودہ میں جہاں دیہاتی مبلغین کا تذکرہ تھا وہاں حضور نے اپنے قلم سے تحریر فرمایا :- یہ کل مبلغ ۱۲۷ ہیں۔ان میں سے جن کو مرزا ناصر احمد اور مرزا عزیز احمد صاحب اور مولودی شمس صاحب سہولت سے تمہیں جن کو وہ بہ خوشی فارغ کر سکیں بھیجوا دیں تاکہ ان سے تبلیغ اور چندہ کا کام لیا جائے۔یہ شرط نہیں کہ وہ فارغ شدہ ہے خواہ نئے طالب علموں سے ہوں خواہ پرانے پاس شدوں میں سے۔اس طرح مشورہ کر کے یہ شرح صدر اور قادیان کے فائدہ کو مدنظر رکھ کے اطلاع دیں کہ احمد کتنے ان مبلغوں میں سے بغیر ذرہ سے بھی خطرہ کے فارغ کر سکتے ہیں۔ہمارے احساس کا کسی صورت میں خیال نہ رکھیں سو فیصدی مقدم قادیان کے فائدہ اور کام کا خیال رکھیں" فصل چهارم تبوک استمبر کی مشاورت کے اس فیصلہ پر کہ جماعتیں مرکز احمدیت کی حفاظت کے لئے حفاظت قادیان کے لئے بذریعہ قرعہ جوانوں کو بھجوائیں مخلصین جماعت کا قابل رشک مظاہرہ پاکستان کی احمدی جماعتوں نے میں جوش و خروش اور عشق شیفتگی اور والہانہ اخلاص کا مظاہرہ کیا وہ رہتی دنیا تک یادگار رہے گا۔پاکستان میں جہاں جہاں جماعتیں پائی جاتی تھیں انہوں نے حسب فیصلہ اپنی کل تعداد کے ے ریکارڈ نظارت علیا صدر انجمن احمدیہ پاکستان ؟ سے پاکستان کے علاوہ لکھنؤ کی احمدیہ جماعت کے سولہ مخلصین نہایت دشوار گذار راستوں سے محضن حفاظت مرکز کے لئے لاہور پہنچے درپور سالانه صدر انجین احمدیہ پاکستان این منفرد) سے مولانا جلال الدین صاحب شمس نے اپنے مکتوب (۲۹ احسان جون پیش بنام حضرت تم الانبیاء میں تحریر فرمایا : دو حضرت امیر المومنین نے کوئٹہ جانے سے تین چار روز پہلے مجلس میں۔۔۔فرمایا۔قادیان کے متعلق دو ولی ہو رہی ہے۔سارے کام کا ایک ہی انچارج ہو۔میاں بشیر احمد صاحب سے مل کر دریافت کر لیا جائے اگر واقعی کام زیادہ ہو تو دو تین آدمی بطور سکرٹری ان کو دے دیئے بچائیں لیکن صبیحہ ایک ہی ہو۔اس کا نام ہی تقدیانی ہو۔آدمی جمع کرنا ، بھیجوانا ، قادیان والوں کو ریلیز کرنا ، خط و کتابت کرنا اس صیغہ کے ماتحت ہو "