تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 111 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 111

بھجوانے کا ارشاد کبھی فرمایا۔اس کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔ان کو خاص نگرانی میں آرام سے بھجوایا جائے۔ضرورت ہو تو کوئی شخص راستہ میں افیون کا ٹیکہ دیتا لائے تا تکلیف نہ ہو۔ان سے کہہ دیا جائے کہ اس وقت بھانوں کا لے جانا اسباب سے مقدم ہے۔ہاں بار بار لکھا جاچکا ہے کہ الفضل، الحکم ، بعد ، ریویو ، پیغام صلح کا ایک ایک مکمل سیٹ شروع سے ہفتہ تک کا فوراً بھجوایا جائے تا سلسلہ کی تاریخ غائب نہ ہو جائے مگر اب تک توجہ نہیں ہوئی۔انور صحاب خود یہ کام کریں۔۔۔۔۔صاحب اس قابل معلوم نہیں ہوتے " دوسرا مرحلہ عملہ اور ریکارڈ کے لاہور میں منتقل کئے جانے کے دوسرے مرحلہ کا آغانہ ۲۸ تبوک میش کو ہوا جبکہ صدر انجین احمدیہ پاکستان نے اس بارے میں خاص اجلالی منعقد کیا اور منگوائے جانے والے کارکنوں کا انتخاب کر کے اس کی روداد حضرت امیرالمومنین کی عادات میں آخری منظوری کے لئے بھیجی۔صدر انجین کے اس اجلاس میں مندرجہ ذیل ممبران موجود تھے :- ۱- حرم حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب صدر -۲- مکرم نواب محمد عبد الله تعال صاحب ناظر اعلی -- نواب محمد دین صاحب ناظر دعوة والتبليغ ۴ - مكرم عبد الرحيم صاحب در و ناظر تعلیم و تربیت و امور عامه و خارجه - مولوی سیف الرحمن صاحب ناظر ضیافت - ابو المنیر مولوی نور الحق صاحب ناظر انخلاء هو آبادی ، مولوی محمد صدیق صاحب واقف زندگی ممبر - خانصاحب منشی برکت علی صاحب ناظر بیت المال - مرزا عبد الغنی صاحب محاسب صدر انجمن احمد یہ لا ہوں۔۔حضرت نواب محمد عبد اللہ خال صاحب نے حسب فیصلہ صدر انجین احمدیہ حضرت امیرالمؤمنین سے رہنمائی حاصل کرنے کے بعد ناظر اعلی صاحب قادیان کو معتین ہدایات بھیجوانے کے لئے مکتوب کا ایک مسودہ تیار کیا جسے انہوں نے آخری منظوری کے لئے دوبارہ حضور کی خدمت میں رکھا اور بعد منظوری قادیان بھجوایا۔اس مسودہ کے الفاظ یہ تھے :- " بسم الله الرحمن الرحیم نحمه و فصلی جلے رسوله الكريم وصلى عبده المسيح الموعود بخدمت مکرم جناب ناظر صاحب اعلیٰ صدر امین احمدیہ قادیان