تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 94 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 94

۹۴ ماچھیواڑہ ، غوث گڑھ ، رائے پور ، نابھہ ، دھوری ، برنالہ ، بیٹھنڈہ ، مانسہ منڈی ،ہنگرور ہربنس پور ، سنام - پائل۔حلقہ انبالہ : انبالہ ، مکو وال ، اثر پور۔حلقہ دہلی د شملہ میں حسب ذیل جماعتیں قائم تھیں :- شملہ ، دہلی ، طلب گڑھے حصار محمود پور کا نور کا نور ہے کہ نالا۔مندرجہ بالا کر جماعتیں تبادلہ آبادی کے سیلاب کی زد میں آگئیں اور الا ماشاء اللہ نہایت خستہ حالی اور بے سروسامانی کی حالت میں پاکستان پہنچیں۔سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی نے اگر ایک طرف دین اسلام کے ایک غیور جہر نہیں کی حیثیت سے آنے والے احمدی مہاجرین میں غیرت اسلامی کی روح زندہ رکھنے کی انتہائی کوشش کی۔تو دوسری طرف ایک مشفق و محسن باپ سے بڑھ کر ان کے آرام و آسائش کا خیال رکھا اور ان کو پاکستان میں باوقار اور منظم طریق پر بسانے میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی۔اس تعلق میں حضور نے آتے ہی جو دھامل بلڈنگ میں نظارت آبادی اور نظارت تجارت کے شعبے کھلوا دیئے۔اول الذکر کے ذمہ بنیادی لحاظ سے ابڑے ہوئے احمدیوں کو منظم طریق پر بسانے کا کام تھا۔اور ثانی الذکر کا حقیقی مقصد یہ تھا کہ آباد ہو جانے والے احمدی اقتصادی طور پر جلد سے بیلد اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں۔ان شعبوں کا طریق کار کیا تھا اور وہ کن خطوط پر اپنی مفوضہ ذمہ داری بجا لا رہے تھے اس کی وضاحت کے لئے مندرجہ ذیل دو اعلانات کا مطالعہ کرنا چاہیے جو وسط ماہ تبوک استمبر مہیش میں بذریعہ افضل " اشاعت پذیر ہوئے :- نظارت آبادی کی طرف سے اعلان مشرقی پنجاب سے آنے والے احمدیوں کو اطلاع ضلع جالندھر، ہوشیار پور ، گورداسپور ، امرتسر کی شہری اور دیہاتی جماعتوں کے لئے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ جو دھامل بلڈنگ لاہور میں اس امر کے لئے دفتر کھول دیا گیا ہے۔کہ