تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 92
۹۴ فصل سوم جس طرح بر صغیر میں تبادلۂ آبادی کی کوئی مثال تاریخ جہا بھر احمدیوں کو ملک میں باوقار اور عالم میں نہیں مل سکتی اسی طرح جماعت احمدیہ کے منظم طریق سے بسانے کی ملک گیر کوشش نے یہ پہلا موقع تھا کہ اسے اتنے وسیع پیمانے پر ہجرت کرنا پڑی۔متحدہ ہندوستان میں احمدی افراد کی مجموعی تعداد پانچ لاکھ اور مشرقی پنجاب میں کم و بیش ایک لاکھ ہوگی جس میں سے چودہ ہزار کے لگ بھگ مرکز احمدیت قادیان میں آباد تھے۔قادیان اور اس کے ماحول میں مندرجہ ذیل محلوں اور ملحقہ دیہات میں احمدی پائے جاتے تھے:۔مسجد مبارک، مسجد اقصی ، مسجد فضل دارالانوار، دار الفتوح ، ناصر آباد ، دار البرکات دار الفضل ، دار العلوم ، دار السعة ، اسلام پور ، بھینی بانگر انگل خورد ، ننگل کلاں باغباناں ، قادر آباد (ترکھانا نوالی) ، احمد آباد (نواں پنڈ) ، کھارا ، کریم پورہ۔قادیان اور اس دن قریبی دیہات کے علاوہ ضلع گورداسپور میں مشہور احمدی جماعتیں حسب ذیل مقامات پر قائم تھیں :- بٹالہ ، دھر مکوٹ بگہ ، قلعہ لال سنگھ ، بھاگووال ، شاہ پور امر گڑھ ، پنجواں ، اٹھوال، خان فتح ، بودی نگل ، تیجہ کلاں ، فیض اللہ چک ، بلبل چک ، تلونڈی جھنگلاں ، سیکھواں، ہرسیاں ، دیال گڑھ ، گلانوالی ، بسراواں ، کلو سویل ، گل منج ، سارپور ، چھٹہ ، تلونڈی راماں، شکار پور ماچھیاں ، دھر مکوٹ رندھاوہ ، ڈیرہ بابا نانک تھہ غلام نبی ، بیری ، پھیرو چیچی ، گھوڑیواہ ، بگول ، بھینی میلواں ، کڑی افغاناں سٹھیالی ، کاہنووان لمین کرال ، گورداسپور ، او مجلہ ، طالب پور بھنگواں ، پٹھانکوٹ ، دولت پور ، بہلولپور، ماڑی بچیاں، بہادر حسین ، مسانیاں ، ٹھیکریوالہ ، میادی شیرا ، پیرو شاہ ، ڈیریوالہ (دارد نیاں) ، ڈلہ ، دھیڑ ، پارووال ، دھر مسالہ ، پکیواں ، بھابڑہ ،