تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 72
۷۲ اس سال ایف اے اور ایف ایس سی کے طالب علم امتحان دیں گے اور پاس ہونے والے بی۔اے اور بی ایس سی میں داخل ہوں گے۔چونکہ ایف اے اور ایف ایس سی تعلیم کا انتہی نہیں ہے اس کے لئے تکمیل تعلیم کے لئے ہی۔اسے اور بی ایس سی کی جماعتوں کا ہونا ضروری ہے جن کے کھولنے کے لئے صرف عمارت اور فرنیچر اور سائنس کے سامان کا اندازہ ایک لاکھ ستر ہزار کیا جاتا ہے اور کل خرچ پہلے سال کا دولاکھ پانچ ہزار بتایا جاتا ہے۔یونیورسٹی کی طر سے کمیشن اگر بی۔اسے اور بی ایس سی کی جماعتوں کے کھولنے کی سفارش کر چکا ہے۔اب صرف ہماری طرف سے دیر ہے۔اس وقت اگر ہم یہ جماعتیں نہ کھولیں گے تو جماعت کے لڑکے ایک تو اعلیٰ تعلیم کے لئے پھر دوسرے کالجوں میں بجانے پر مجبور ہوں گے۔دوسرے بہت سے لڑکوں کو دوسرے کالج لیں گے ہی نہیں۔کیونکہ اکثر کالج دوسرے کا لجوں کے لڑکوں سے تعصب رکھتے ہیں۔اس لئے ہمارے لڑکوں کی عمریں تباہ ہوں گی۔تیسرے جو غرض کالج کے اجراء کی تھی کہ لامذہبیت کے اثر کا مقابلہ کیا جائے اور خالص اسلامی ماحول میں پہلے ہوئے نوجوانوں کو باہر بھیجوایا جائے وہ فوت ہو جائے گی۔پس ان حالات میں میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر تو کل کر کے کالج کی بی۔اے اور بی ایس سی کی جماعتیں کھول دی جائیں۔اور اسی سے دعائے کامیابی کرتے ہوئے میں جماعت احمدیہ کے مخلص افراد سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس کام کے لئے دل کھول کر چندہ دیں اور یہ دو لاکھ کی رقم اس سال میں پوری کر دیں تاکہ یہ دل کو اوریہ دو میں کام یہ تمام و کمال بلد مکمل ہو کر اسلام کی ایک شاندار بنیاد رکھی جائے۔میں نے اپنے آپ کو ایک نمونہ بنانے کے لئے دس ہزار روپیہ کا وعدہ کیا ہے۔اس سے پہلے اس سال میں دس ہزار تھر یک بعدید میں اور پانچ ہزار مدرسہ احمدیہ کے وظائف کے لئے دے چکا ہوں اور ان بندوں کے علاوہ نو دس ہزار کی مزید رقم میں نے اور کی ہے یا کرنی ہے اور گویہ میرے ارادے میری موجودہ حالت کے خلاف ہیں لیکن وہ مال جو اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے کام نہیں آتا کس کام کا ؟ ہندی زبان میں محاورہ ہے کہ بھاٹ پڑے وہ سونا سبس سے ٹوٹیں کان پس وہی روپیہ ہمارا ہے جو دین میں خرچ ہو۔جو ہم نے کھایا وہ گنوایا۔اور جو خدا تعالے کی راہ میں دیا وہ لیا۔اس احباب جوائت کو چاہیے کہ چندوں کی کثرت سے گھبرائیں نہیں