تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 71 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 71

61 نظر کا لیکمیٹی نے پنجاب یونیورسٹی سے درخواست کی کہ کالج کو بی۔اے اور بی ایس سی تک بڑھانے کی اسبازت دی جائے۔اس پر یہ یورسٹی نے تمام حالات کا مطالعہ کرنے کے لئے ایک کمیشن قادیان بھجوایا۔یہ کمیشن ملک عمر حیات صاحب پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور ، سردار جود و سنگر صاحب پر نسپل خالصہ کالج امرتسر اور ڈاکٹر جی ایل دتا صاحب پر نسپل ڈی اے وی کالج مشتمل تھا۔ارکان کمیشن نے صلح جنوری پیش کو تعلیم الاسلام کالج کا معائنہ کیا اور کالج کی جائے وقوع ، اس کی عمارات ، سامان ، گراؤنڈز وغیرہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور فضل عمر سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یکھ کر تو یہ اثر لے کر گئے کہ کالج سے متعلق ان تیاریو سے ظاہر ہے کہ ایک یو نیورسٹی کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔ہے ته تعلیم الاسلام کالج میں توسیع کے لئے جماعت احمدیہ کے اولوالعزم روحانی سپہ سالار حضرت سیدا المصلح الموعود نے کالج کی افتتاحی تقریب پر اس دلی منشار حضرت امیر المومنین کی اسپیل کا اظہار فرما دیا تھا کہ آپ اُس دن کے آنے کے منتظر ہیں کہ اس پیج میں سے ایک دن ایسا درخت پیدا ہو جس کی ایک ایک ٹہنی ایک بڑی یونیورسٹی ہو اور ایک ایک پیتہ کا لج بن جائے اور ایک ایک پھول ؛ شاعت اسلام در تبلیغ دین کی ایک اعلی در سبہ کی بنیاد ہو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی المصلح الموعود نے اس عظیم الشان نصب العین کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے قیام پاکستان سے قبل جو تدریجی قدم اُٹھائے ان میں تعلیم الاسلام کالج میں بی۔اے اور بی ایس سی کی کلاسوں کا اضافہ بھی ہے حضور نے اس سلسلہ میں ناصر آباد سندھ سے ۵ار امان مارچ پر میش کو حسب ذیل مضمون رقم فرمایا :- اللَّهِ الرَّحْمَنِ الأَمِيرُ أَعُودُ اللَّهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّحِيم - مدة اية على ان الريم 14 - خدا کے فضل اور رحم کیساتھ هو الناصر مرَ أَنْصَارِي إلى الله تعلیم الاسلام کالج قادیان میں توسیع بی۔اے اور بی ایس سی کی کلاسیں کھولنے کی تجربہ انتساب کو معلوم ہے کہ دو سال سے قادیان میں کالج کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔" تفضل ۱۵ صلح جنوری له مش صفحه ۲ کالم ۹۳