تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 759
ام حضرت مصلح موعود خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنی روانگی سے ایک روز قبل یعنی ظہور اگست پیش کی رات کو قادیان وجماعتہائے احمدیہ مضلع گورداسپور کے نام بہت الوداعی پیغام حسب ذیل الوداعی پیغام لکھا اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو اپنے پیچھے امیر مقامی مقر کرتے ہوئے تم است فرمائی کہ حضور کے قادیان سے روانہ ہونے کے بعد جماعت تک پہونچا دیا جائے چنانچہ آپ نے اس کی نقلیں کروں کے مغرب اور عشاء کی نمازوں میں قادیان کی تمام احمدی مساجد میں بھیجوا دیں جو پڑھ کر سنا دی گئیں۔پیغام یہ تھا :۔اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم محمده ونصلى على رسوله الكريم میں مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی تمام پر یزید نشان انجمن احمدیہ قادیان و محله جات و دیہات ملحقہ قادیان ددیہات تحصیل بٹالہ تحصیل گورداسپور کو اطلاع دیتا ہوں کہ متعدد دوستوں کے متواتر اصرار اور لمبے غور کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قیام امن کے اغراض کے لئے مجھے چند دن کے لئے لاہور ضرور جانا چاہیے کیونکہ قادیان سے بیرونی دنیا کے تعلقات منقطع ہیں اور ہم ہندوستان کی حکومت سے کوئی بھی بات نہیں کر سکے حالانکہ ہمارا معاملہ اس سے ہے لیکن نا ہو اور دہلی کے تعلقات ہیں۔تار اور فون بھی جا سکتا ہے۔ایل بھی جاتی ہے اور ہوائی جہاز بھی جا سکتا ہے۔میں مان نہیں سکتا کہ اگر ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال صاحب پر یہ ام کھولا جائے کہ ہماری جماعت مذہباً حکومت کی وفادار جماعت ہے تو وہ ایسا انتظام نہ کریں کہ ہماری جماعت اور دوسرے لوگوں کی جو ہمارے ارد گرد رہتے ہیں حفاظت نہ کی جائے جہانتک مجھے معلوم ہے بعض لوگ حکام پر یہ اثر ڈال رہے ہیں کہ مسلمان جو ہندوستان میں آئے ہیں ہندوستان سے دشمنی رکھتے ہیں۔حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ انہیں اپنے جذبات کے اظہار کا موقعہ ہی نہیں دیا گیا۔ادھر اعلان ہوا اور ادھر فساد شروع ہو گیا ورنہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ مسلمان مسٹر جناح کو اپنا سیاسی لیڈر تسلیم کرنے کے باوجود ان کے اس مشورہ کے خلاف جاتے کہ اب جو مسلمان ہندوستان میں گئے ہیں انہیں ہندوستان کا وفادار رہنا چاہیئے۔غرض ساری غلط فہمی اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ یکدم فسادات ہو گئے اور صوبائی حکام اور ہندوستان کے موکام پر حقیقت نہیں کھلی۔ان حالات