تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 758 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 758

صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب نے بواسطہ مولوی ابوالعطاء صاحب تجویز محلوں میں اجتماعی پیش کی تھی کہ اس ظہور / اگست کو مغلوں کی مساجد میں اجتماعی طور پر ڈھا کی بجائے بچنا نچہ اس روز پہ بجے سے 9 بجے تک تمام مساجد میں دعا کی گئی۔قادیان مرکزی فسوں اورکارکنوں کاخاص ان سیدنا الصلح الموعود فرماتے ہیں: ان تکلیف دہ ایام میں قادیان کے مرکزی احمدی افسروں اور کارکنوں نے نہایت درجه خلوص کا ثبوت دیا۔چنانچہ قادیان کے کارکن۔۔۔سب کے سب اپنی جانیں ہتھیلی پر لئے ہوئے خدا تعالیٰ کے شعائر کی حفاظت میں لگے ہوئے ہیں۔۔۔دان بالعموم بائیں بائیں گھنٹے تک کام کرنا پڑتا ہے خود مجھ پر بہت راتیں ایسی گزری ہیں کہ صبح تک میں آنکھ بھی ٹھیک نہیں سکا کیونکہ ماتحت عملہ کی ڈیوٹی تو با لیتی رہتی ہے لیکن اوپر جو عملہ ہوتا ہے اور جس کا فرض دوسروں سے کام لینا ہوتا ہے، اس کی ڈیوٹی بدل نہیں سکتی۔رات کو کام کرنے والے آتے ہیں تو وہ کام بھی کرتے ہیں اور اپنے افسر کو بھی بتاتے ہیں کہ انہوں نے کیا کام کیا۔اسی طرح دن کو کام کرنیوالے کام کرتے ہیں تو وہ اپنے افسر کو بھی کام کی رپورٹ دیتے اور اس کی ہدایات کے مطابق عمل کرتے ہیں" سے فصل دیم حضرت مصلح موعود کا سفریت اب ہم متحد ہندوستان کے اس آخری یادگار اور اہم واقعہ تک آپہنچے ہیں جیسن سے جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اور پاکستان میں ورود مسعود ایک نئے اور انقلابی دور کا آغاز ہوا۔ہماری مراد سیدنا حضر مصلح موعود کے سفر ہجرت سے ہے جو حضور نے جماعتی مشورہ کے بعد اس ظہور اگست میش کو / اختیار فرمایا۔۔له الفضل» سر تبوک ستمبر کالم ۲-۳ (خطب جمبر فرموده ۱۲ رتبوک استر پیش مقام سجدا حمید لاہور ) به