تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 754
قادیا اور اسے ماحول کی المناک کیفیت اگست کے آخرمیں قادیان اور اس کے ماحول کی کیفیت کیا تھی، اس کی تفصیل حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے مندرجہ خوردار است بارش میں ذیل مکتوب سے آسانی معلوم ہوسکتی ہے جو آپ نے سیدنا حضرت مصلح موعود کے ارشاد پر حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے کے نام تحریر فرمایا: حضور کا ارشاد ہے کہ فوراً بٹالہ جائیں وہاں پنڈت جواہر لال صاحب نہرو اور نواب لیاقت علی خان صاحب آئے ہوئے ہیں۔آپ ان دونوں سے الگ الگ میں لیکن اگر الگ الگ ملنے کا موقعہ نہ ہو تو پھر بیشک اکٹھے مل لیں اور انہیں (قادیان) اور اس کے ماحول کے حالات بتائیں اور خصوصاً مندرجہ ذیل باتوں کا ذکر کریں :۔ا۔معلوم ہوا ہے کہ آپ ضلع گورداسپور کے حالات دیکھنے کے لئے گوردا سیکور جا رہے ہیں اور وہاں ڈی سی صاحب اور دوسرے افسروں سے مل کر حالات معلوم کریں گے۔اصل کام یہ ہے کہ آپ تباہ شدہ علاقے یا خطرے والے علاقے کو دیکھیں اور میں آپ کو دعوت دینے آیا ہوں کہ آپ سلسلہ احمدیہ کے مرکز قادیان کو چل کر دیکھیں کہ اس کا ماحول کس طرح تباہ شدہ ہے اور خود قادنیا کس طرح خطرات سے گھرا ہوا ہے۔قادیان ایک ساری دنیا میں پھیلی ہوئی جماعت کا مرکز ہے اور بہت سے علمی اور تحقیقاتی اداروں کا صدر مقام ہے اور ضلع میں سب سے زیادہ اہم جگہ ہے۔اس کی حفاظت کا تسلی بخش انتظام ہونا چاہیے ہو اس طرح ہو سکتا ہے کہ وہاں ہمدرد اور کافی تعداد میں ملٹری مقرر کی جائے اور اس ملٹری کو واضح ہدایت دی جائے کہ اس نے بہر حال قادیان اور اس کے ماحول میں امن قائم رکھنا ہے اور کہ دیا جائے کہ اس شکتی ہوئی تو تم ذمہ دار ہو گئے۔قادیان جیسی جگہ پر تباہی کا آنا حکومت کے لئے ساری دنیا میں بدنامی کا موجب ہو گا ورنہ ہم عارضی طور پر مرکز بھی دوسری جگہ بنا سکتے ہیں۔گو اپنے مقدس مقامات کو بھی چھوڑا نہیں جاسکتا۔۴۔قادیان میں اس وقت سات آٹھ ہزار پناہ گزین ہے جو ارد گرد کے مسلمان دیہاتوں کے خانما ہو کر یہاں بیٹھا ہوا ہے اس کے لئے نہ تو حکومت کی طرف سے پناہ گزینوں کا کمپ ہے اور نہ ان پناہ گزینوں کو دوسرے علاقہ میں منتقل کرنے کا کوئی انتظام موجود ہے اس کے علاوہ