تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 738
الصلح المود کا پہلا پیغام قادیان کاتعلق باقی دنیا سے کٹ چکا تھا جس کی وجہ سے بیرونی ر سید نام جماعتوں کا مشوش اور پریشان ہونا لازمی امر تھا حضرت سیدنا بیرونی احمدی جماعتوں کے نام المصلح الموعود نے ان حالات کو دیکھ کہ بیرونی احمدیوں کے لئے اپنے قلم مبارک سے بعض پیغامات لکھے تا دوسری احمدی جماعتیں نہ صرف مرکز کی مخدوش صورت حال سے یا خبر ہوں بلکہ نئے تقاضوں کے پیش نظر اپنی ذمہ داریوں کو مومنانہ جرات سے نباہنے کے لئے سرتا پا مکمل ہو جائیں۔د بقیه حاشیه صفحه گذشته بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ سے ہدایات لے کر لاہور پہنچ جاؤں جس کی تفصیل میں خاکسار دو گر دن ۲۰ اگست کو ہفتہ کے روز نماز فجر مسجد اقصیٰ میں ادا کرتے ہی حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور اندر چٹ اپنے نام کی بھیج کر ہدایت چاہی جس پر حضرت میاں صاحب نے سرخی سے نوٹ فرمایا :- لاہور ابھی پہلے بھائیں جہاز دارالا نوار میں تیار ہوگا۔اپنے ساتھ صرف دفتر کا ضروری سامان دفتر چلانے کے لئے جو دس سیر سے زائد نہ ہولے جا سکتے ہیں" میں بجائے اس کے کہ گھر جاتا جو وہاں سے صرف پانچ چھ منٹ کا راستہ تھا دفتر محاسب پہنچا اور وہاں سے کچھ رسیدات اور دو ایک ضروری رجسٹر ساتھ لئے اور خزانہ کے پہرہ دار کو کہا کہ میرے گھر پیغام دے دیں کہ میں حضور کے ارشاد کی تعمیل میں لاہور بھا رہا ہوں۔میں بھاگا بھاگا دارالا نوار پہنچا۔وہاں مسجد دارالانوار کے پاس جہاز اڑان کے لئے سٹار ہو چکا ہوا تھا۔اس کے پائلٹ سید محمد احمد صاحب تھے۔میں نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی چٹ سید محمد احمد صاحب کو دی۔انہوں نے جو آدمی پہلے جہاز میں لاہور جانے کے لئے بیٹھا تھا اُسے اُتار دیا۔اور مجھے اس میں بیٹھنے کو فرمایا میں نے رجسٹر وغیرہ جہاز میں رکھے اور جہاز میں بیٹھ گیا۔میرے بیٹھتے ہی جہاز راہوں کے لئے اڑان کر گیا اور میں نے جہاز میں بیٹھے بیٹھے وطن کو آخری سلام کیا۔اس دن بارش ہو رہی تھی۔راستے میں سید صاحب موصوف مختلف جگہوں پر سکھوں اور ہندو حملہ آوروں کے ہجوم بھی دیکھتے تھے تاکہ وہ اس کی اطلاع حضر امیرالمومنین ہے کو دے سکیں چنانچہ انہوں نے فرمایا۔میں جہاز کی کھڑکیاں مذکورہ اطلاع لینے کے لئے کھول رہا ہوں جم کر بیٹھے رہو۔کھڑکیاں کھل گئیں۔نیچے جگہ جگہ حملہ آوروں کے ہجوم مختلف دیہات میں دیکھے گئے۔کئی جگہ آگ لگ رہی تھی۔ہمارا جہانہ امرتسر کے بالکل اوپر سے نہیں گذرا کیونکہ امرتسر میں تو ہمارے جہاز کو اُڑا دینے کے پورے سامان موجود تھے۔اس لئے جہاز امرتسر سے ذرا ہٹ کر گزرا۔قادیان سے لاہور ہم صرف نصف گھنٹہ میں پہنچ گئے۔یہاں ہوائی اڈہ پر مکرم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ تشریف لائے ہوئے تھے۔وہی اس وقت لاہور میں مقابل امیر تھے۔میں نے انہیں اپنی آمد اور آمد کے مقصد سے اطلاع دی۔مجھے انہوں نے اپنی کار میں بٹھایا۔اور کو بھٹی ٹمپل روڈ لاہور میں جو صدر انجمن کی ملکیتی ہے، پہنچے۔یہاں اس وقت لاہور شہر اور بیرو نجات سے احمدی احباب فسادات کے سلسلہ میں جھولی اور شہر میں جو لوٹ مار ہو رہی تھی کے باعث مکرم شیخ صاحب سے مشورے کرنے آرہے تھے۔مجھے تو حکم ہوا کہ میں وہاں کو بھی میں دفتر قائم کر لوں اور جو احباب چندہ جات وغیرہ دیتے ہیں لینے شروع کردوں۔میں نے باوجودیکہ کو بھٹی میں تیل دھرنے کو بھی جگہ نہ تھی ایک کونے میں کرسی لگا کر کام