تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 56
۵۶ تمہیں دکھائیں کہ دنیا کا ذرہ ذرہ قرآن اور اسلام کی تائید کر رہا ہے اور نیچر اپنی عملی شہادت سے محمد صلے اللہ علیہ وسلم کی راستبازی کا اعلان کر رہا ہے۔یہ کام بہت خشکل ہے۔یہ کام بہت لمبا ہے اور اس کے لئے بہت بڑے سرمایہ کی ضرورت ہے۔ابتدائی کام کے لتے ہیں ایم ایس سی ایسے درکار ہوئی جو رات اور دن اس کام میں لگے رہیں اور اسلام کی تائید کے لئے نئی سے نئی تحقیقا تیں کرتے رہیں۔میں نے بتایا ہے کہ اس کام پہ ستر ہزار سے ایک لاکھ دو پیہ تک سالانہ خرچ ہو گا اور شروع میں کم سے کم اس غرض کے لئے دو لاکھ روپیہ کی ضرورت ہوگی۔یورپ میں تو دو دو چار چار کروڑ روپیہ کے سرمایہ سے ایسے کاموں کا آغاز کیا جاتا ہے اور ممکن ہے ہمیں بھی زیادہ روپیہ خرچ کرنا پڑے" سے افضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قیام کن مراحل میں سے گزر کر ہوا۔اس کی ابتدائی تاریخ ابتدائی تاریخ کیا ہے، شروع میں کیا کیا بنیادی کام ہوئے اور مستقبل کے لئے کیا پروگرام مد نظر تھا ؟ ان سب امور پر ڈاکٹر چودھری عبدالاحمد صاحب کے ایک مفصل مضمون سے تفصیلی روشنی پڑتی ہے۔جناب چودھری صاحب لکھتے ہیں :۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالے کے منشاء کے مطابق مشروع شروع میں خاکسار نے مند استان کا دورہ کر کے مختلف یونیورسٹیوں اور سائنس کے اداروں کو دیکھا اور مختلف ماہر کہیں سانس سے ملاقات کی تاکہ میری معلومات میں مزید اضافہ ہو چونکہ حضور کے منشاء کے مطابق ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے کام میں بہت سی توسیع مد نظر تھی۔اس لئے یہ ضروری تھا کہ اس کی بلڈنگ اور لیبارٹری یا ہر ایک کھلی جگہ بنائی جائے جس کے لئے زمین کے ایک بڑے رقبہ کی ضرورت تھی۔لیکن دوران جنگ ہونکہ پھلی کے لئے (CONNECTION ) حاصل کرتے ہیں مشکلات تھیں اس لئے تعلیم الاسلام کالج کی دوسری منزل پر چند کرکے تعمیر کرنے کی تجویہ پوٹی تا کہ کام فوری طور پر شروع کیا جاسکے۔ان کمروں کے نقشے کی تفاصیل تیار کرنے کے بعد تعمیر کا کام کرمی مولوی عبد الرحمن صاحب انور انچارجی تحریک بدید کے سپرد ہوا بجنگ کی وجہ سے عمارت کے لئے ضروری سامان مثلا لوہا، اینٹیں سیمنٹ اور لکڑی وغیرہ کے ملنے میں بہت سی مد افضل ۳۰ هجرت منی له مش مفید به یہ مضمون الفضل - سرامان / ماست وپیش میں مائع تجاه 7180m