تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 54 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 54

۵۴ والے مسلمانوں کا کوئی ایک ادارہ بھی پورے ملک میں موجود نہ تھا جس کی وجہ سے سیدتنا الصلح الموعود کے دل میں ہمیشہ خلش رہتی تھی کہ آخر اس کے قیام کا بھی سامان ہوگیا۔اس طرح یہ پہلا سلم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ تھا جو اللہ تعالی کے فضل اور حضرت فضل عمر کی توجہ سے بر صغیر میں وجود میں آیا۔ینا الصلح الموعود کے مدنظراس عظیم تحقیقاتی مرکز کی تاسیس کا اصل مقصد کیا تھا اور آپ اس کے مستقبل سے متعلق کیا کیا عزائم رکھتے تھے اور کس طرح مغربی فلسفہ کے خلاف اسے ایک مضیح دا اسلحہ تھانہ بتاتا چاہتے تھے اس کا کسی قدر اندازہ حضور کے خطبہ جمعہ کے درج ذیل اقتباس سے ہو سکتا ہے۔فرمایا :- ہمارا کالج در حقیقت دنیا کی ان زہروں کے مقابلہ میں ایک تریاق کا حکم رکھتا ہے جو دنیا کے مختلف ملکوں اور مختلف قوموں میں سائنس اور فلسفہ اور دوسرے علوم کے ذریعہ پھیلائی بھیا رہتی ہیں۔مگر اس زہر کے ازالہ کے لئے تعالیٰ فلسفہ اور دوسرے علوم کام نہیں آسکتے بلکہ اس فرض کے لئے عملی نتائج کی بھی ضرورت ہے کیونکہ ایک کثیر حصہ سائنس کی ایجادات سے دھوکا کھا گیا ہے اور وہ یہ سمجھنے لگ گیا ہے کہ سائنس کے مشاہدات اور قانون قدرت کی فعلی شہادات اسلام کو باطل ثابت کر رہی ہیں۔اسی لئے کالج کے ساتھ ایک سانس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کی گئی ہے تاکہ بیک وقت ان دونوں ہتھیاروں سے مسلح ہو کر گھر پر حملہ کیا جا سکے۔اس انسٹی ٹیوٹ کے قیام پر بھی دو لاکھ روپیہ خریج ہوگا۔پہلے سال کا خریچ تو اسی نوے ہزار کے قریب ہے لیکن اگلے سال جب عمارت کو مکمل کیا جائے گا اور سائنس کا سامان اکٹھا کیا جائے گا کم سے کم دو لاکھ روپیہ خرچ ہوگا۔پھر سالانہ ستر اتنی ہزار کے خروج سے یہ کام پہلے گا۔اس کام کو چلانے کے لئے ہمیں قریباً نہیں آدمی ایسے رکھنے پڑیں گے جنہوں نے سائنس کی اعلی درجہ کی تعلیم حاصل کی ہو۔گویا کالج سے بھی زیادہ عملہ اس غرض کے لئے ہمیں رکھنا پڑے گا۔کچھ عرصہ کے بعد امید ہے کہ یہ انسٹی ٹیوٹ نخود روپیہ پیدا کرنے کے قابل بھی ہو سکے گی۔کیونکہ اس ادارہ میں جب علوم سائنس کی تحقیق کی جائے گی تو انیسی ایجادات بھی کی جائیں گی جو تجارتی دنیا میں کام آسکتی ہیں یا صنعت و حرفت کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور ان ایجادات کو دنیا کے تجارتی اور صنعتی اداروں کے پاس فروخت کیا جائے گا۔ہم ان اداروں سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے محکمہ نے یہ یہ ایجادات کی ہیں۔اگر تم خریدنا چاہتے ہو تو خرید لو۔اس طرح تو ارد پید آئے گا اس کے ذریعہ اس کام کو انشاء اللہ زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جا سکے گا م رپورٹ پیلس مشاورت ۱۳۳۳ ش ۱۱۱