تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 673 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 673

کرنے کی گھڑی آ پہنچی ہے ہم سے ہو غفلت اور کوتاہی ہوئی اس کے لئے معذرت خواہ ہیں۔اور آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ آئندہ ہم آپ کے وفی اشارے پر اپنا سب کچھ لٹا دینے کیلئے تیار ہیں اور انشاء اللہ آئندہ کبھی شکایت کا موقعہ پیدا نہ ہونے دیں گے موجودہ وقت ہم سے تقاضا کہتا ہے کہ ہم اپنی ساری آمد نہیں اور جائدادیں حضور کے قبضہ میں دیدیں اور حضور ہیں معمولی ساگذاردہ دیکھ باقی قوم کو جہاں چاہیں خرچ کر دیں نہیں کوئی عذر نہ ہو گات احباب اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر چکے تو سیدنا حضرت امیر المومنين المصلح الموعود نے فرمایا۔اگر یہ سلسلہ انسانی ہاتھوں کا بنایا ہوتا۔تومیں یہ سمجھتا کہ جماعت کی اس معاملہ میں عدم توجہی حقیقی کمزوری ریبان کے نتیجہ میں ہے لیکن جبکہ یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے اور وہ خود اس کا محافظ ہے تو میں یہ نہیں خیال کر سکتا کہ موجودہ سستی حقیقی مفلت کے نتیجہ میں ہوئی ہے جیسا کہ آپ میں سے اکثر نے اپنی عدم توجہی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے احساس ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔میرا مقصد بھی یہی تھا کہ اس نازک دور کا احساس ہو۔اور آپ اپنی غفلت کو چھوڑ کر آنے والی مصائب کے لئے تیار ہو جائیں۔قبل ان وقت میں آپ کو جو کچھ کہ رہا تھا۔وہ اللہ تعالے کے علم کی بناء پر تھا۔اور خدا کی باتیں جھوٹی نہیں ہو سکتیں۔اس کی طرف سے دی ہوئی غیب کی خبریں۔ایک ایک کر لئے پوری ہو رہی ہیں۔اور جس میں طرح بدلنے والے حالات کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔وہ بعینہ پوڑے ہو رہے ہیں دنیا میں ہر شخص کے لئے آزادی ہے سوائے ہمارے کہ ہم اپنے مقدس مقامات کو نہ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ایک عمارت جو مٹی اور اینٹوں کی بنی ہوتی ہے اس سے ایک مومن کی جان کہیں قیمتی ہوتی ہے لیکن جب وہ عمارت اللہ تعالے کی طرف منسوب ہونے لگے اور شعائر اللہ بن جائے تو اس کی حفاظت کے لئے سینکڑ دیں منوں کی جان بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتی اور انہیں خوشی سے قربان کیا جا سکتا ہے۔پس جاعت نے اگر ان باتوں کو مدنظر نہیں رکھا تھا تو میرا فرض تھا کہ میں انہیں احساس ذمہ داری دلاول اور ان کے مونہوں سے کہلواؤں کہ ہم سے غفلت ہوئی۔سو میں سمجھتا ہوں کہ وہ غرض پوری ہو گئی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ وہ کمی کس طرح پوری کی جائے۔ہما رے عام پسند سے توان اخراجات