تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 672 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 672

مطالبہ کیا گیا تھا۔مگر اس وقت تک صرف ۳۰ ہزار کے قریب رقم جمع ہوئی ہے۔میں حیران ہوں کہ موجودہ ہولناک تباہیوں اور خونریزیوں کے دیکھتے ہوئے جماعت نے کسی طرح اتنی رقم پر اکتفا کیا۔کیا کوئی عقلمند یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ یہ حقیر رقم شعائر اللہ کی حفاظت کے لئے کافی ہے اور ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔اس سے سینکڑوں گنا زیاد د تو تم سال بھر میں اپنے بیماروں پر خرچ کر دیتے ہو۔کیا شعائر اللہ کو اتنی اہمیت بھی حاصل نہیں ؟ اب آپ مجھے بتائیں کہ بقیہ رقم کس طرح پوری ہو سکتی ہے ؟ حضرت مصلح موعود کے - اس ارشاد پر حسب ذیل دوستوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا یہ کریم الدین صاحب محمد شریف صاحب نمائندہ لجنہ اماء اللہ شیخ صاحب دین صاحب گوجرانوالہ فیض احمد صاحب غلام مصطفے صاحبدنذر محمد صاحب - نور الدین صاحب شیخ بشیر احد صاحب حافظ نور الہی صاحب۔مولوی غلام قادر صاحب۔میاں عطاء اللہ صاحب وکیل ان میں سے بعض دوستوں نے مختلف تجاویز پیش کیں اور اکثر اصحاب نے اپنی کوتاہی اور غفلت کا اقرار کرتے ہوئے حضرت امیر المومنین کے حضور معافی کی درخواست کی۔اس موقع پر جناب شیخ بشیراحمد ما معبد امیر جماعت لاہور نے جماعت کے خیالات کی نہایت عمدہ پیرا یہ میں ترجمانی کی۔چنانچہ آپ نے فرمایا :- پیار سے آقا ! یہ درست ہے کہ ہم نے حفاظت مرکز کی اہمیت کو نہیں سمجھا اور اس طور توجہ نہیں کی۔اس کی وجہ یہ تھی اول تو ہیں صحیح طور پر آگا ہ نہیں کیا گیا۔دوسرے ہیں در بیشتر اور پیش بینی حاصل نہیں جو حضور کو حاصل ہے۔حضور نے بے شک ہمیں قبل از وقت خطرے سے آگاہ کر دیا تھا۔مگر ہم سے کوتا ہیا ہوئی کہ ہم نے اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا اور غفلت سے بیدار نہ ہوئے۔اب جبکہ خطرہ ہماری آنکھوں کے سامنے آگیا ہے تباہیوں اور خونریزیوں کا ہولناک منتظر ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزر چکا ہے تو آج ہماری حات وہ نہیں ہے جو پہلے تھی۔آج ہم محسوس کر چکے ہیں کہ ہم اور ہمارے عزیزوں کی جائیں اور ہماری مقدس و محبوب ترین چیزیں خطرہ میں ہیں۔نہیں یہ یقین ہو گیا ہے کہ قربانی کا وقت آن پہنچا ہے اور اپنی زندگی کو بہ قرار رکھنے کے لئے اپنے مال و دولت کو نشار