تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 671
۶۵۵ سکھر سے قادیان تک سکھر میں مختصر قیام کے بعد حضور اسرامان / مارچ کو ساڑھے چھ بجے شام ہند یعہ سندھ کی پولیس قادیان کے لئے روانہ ہوئے ور بجے شب کے قریب گاڑی رحیم یار خان پہنچی جہاں اردگرد کی احمدی جماعتیں آئی ہوئی تھیں۔احباب کی طرف سے چائے پیش کی گئی۔اس کے بعد چیچاوطنیا سٹیشن پر کچھ دوست موجود تھے منٹگمری میں بہت سے دوست موجود تھے نہیں حضور نے شرف مصافحہ بخشا۔بچو ہدری محمد شریف صاحب وکیل نے چائے پیش کی۔اوکاڑہ سٹیشن پر بھی بہت سے دوست مجھے تھے پتوکی سٹیشن پر کھر بیر علی پور شمس آباد کے متعد دوست آئے ہوئے تھے۔دوسر ے روزہ یکم شہادت / اپریل ساڑھے گیارہ نیچے دو پہر گاڑی لاہور پہنچی۔جہاں جماعت لاہور کے بہت سے احباب حضور کے استقبال کے لئے موجود تھے۔بحضور مع اہل بیت کاروں میں سوار ہو کر جناب شیخ بشیر احمد صاحب کی کوٹھی پر تشریف لے گئے۔یہاں کھانا تناول فرمانے کے بعد دو بجے دوپہر روانہ ہوئے اور سات کا روں پر مشتمل یہ قافلہ ہ بچے کے قریب قادیان پہنچ گیے لم - متحدہ ہندوستان کی آخری مجاش ایت اور متحد مهند وستان کی آخری علی است ۴ ۵ ۶ ماه شهادت / اپریل مخلصین احمدیت کی شاندار قربانی کا ایمان افه و زه منظره ستار کو منعقد ہوئی جب ہندوستان نے کے طول و عرض سے الالم نمائندگان نے شرکت فرمائی کی اس مشاورت کا اہم ترین واقعہ حضرت مصلح موعود کی طرف سے حفاظت مرکز کے لئے مالی تحریک اور اس پر مخلصین جماعت کا شاندار رنگ میں لبیک کہنے کا ایمان افروز نظارہ ہے۔جو مشاورت کے دوسرے دن ہ ماہ شہادت اپریل کو نماز مغرب وعشاء کے بعد دیکھنے میں آیا۔اس روز تیرا اجلاس و رنجے شب شروع ہوا جس کے آغاز میں حضرت مصلح موعود نے جاعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا " حفاظت مرکز کے لئے جماعت سے دو لاکھ کی رقم کا الفضل ۲۲ شہادت له الفضل و ربا دشها دست را پریل در صفحه سر کا لم ۲۴ وریل ۱۹۴۷