تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 647
م تعلیم البنات حصہ اول پاره اول مترجم بطرز حد یاد مع نماز متر هم راز مولوی عبد الرحمن من نمی شمار سکھوں اور مسلمانوں کے خوشگوار تعلقات دان گیانی و احمد حسین صاحب ملنے سلسله احمدیه) گزشتہ اور موجودہ جنگ کے متعلق پیش گوئیاں" ( تالیف مولانا محمد یعقوب صاحب طاہر و مولانا جلال الدین صاحب شمق ) مباحثه و ملی اس نسال دہلی میں ڈریادگار مناظرے ہوئے جن کی تفصیل یہ ہے کہ آریہ سماج دہلی نے اپنے سالانہ جلسہ کے موقع پر جملہ مذاہب کو مناظرہ کا پیلینچ دیا اور ایک پوسٹر بھی شائع کیا کہ جس کا جی پیا ہے آ کہ وید کہ دھرم کی صداقت آزما ہے۔جماعت احمدیہ نے یہ چلینج قبول کر لیا اور آریہ ومعصوم میں عورت کا مقام کے موضوع پر مناظرہ قرار پایاجس میں مولومی ابو العطاء صاحبہ فاضل پر نسپل جامعہ احمدیہ نے کا میاب کامیاب محبت کی۔آپ کے زبر دست دلائل اور شوکت بیان کے سامنے آریہ مناظر صاحب کے کزور اور غیر معقول جوابات کا یہ اثر تھا کہ آریہ سماج کو مناظرہ کا ڈیڑھ گھنٹہ مقررہ وقت گذار نا مشکل ہو گیا اور ان کی کیفیت " پہ پائے رفتن نہ جائے ماندن " کی مصداق تھی۔انتقام مناظرہ پر مسلمانوں نے انبساط و مسرت کے ہوش میں بے اختیار اللہ اکبر" " اسلام زندہ باد کے نعرے بلند کئے اے اس مناظرہ میں آریہ سماج کو زک اٹھا نا پڑی اس کا داغ دھونے کے لئے آریہ سماعت نے دوبارہ اس موضوع پر مباحثہ کی طرح ڈالی۔چنانچہ ایک ہفتہ کے اندر نئی دہلی میں دوسرا مناظرہ ہوا اور اس میں کئی ہزار تعلیم یافتہ لوگ شامل ہوئے جماعت احمدیہ کی طرف سے شب سابق مولومی ابو العطاء صاحب نے بحث کی اور آریہ سماج کی طرف سے پنڈت پر بھی ال صاحب پیش ہوئے جو عمر رسیدہ ہونے کے باوجود بد زبانی میں بہت شاق تھے۔یہ مناظرہ بھی پہلے کی طرح نہایت کامیابی سے ختم ہوا خود پنڈت رام چند ر صاحب دہلوی نے جو صد تھے اعلان کیا کہ جناب مولوی ابو العطاء صاحب نے نہایت تہذیب و شرافت سے مناظرہ کیا ہے اور کوئی ایسی بات نہیں کہی جو ہمارے مسلمات کے خلاف ہو۔مسلمانوں نے مناظرہ کے انتقام ه الفضل ۱۲ رمان مارچ ۳۵ ۳ موش صفحه ۶