تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 49 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 49

۴۹ رکھا جائے گا۔احمدی طالب علموں کے متعلق قومیں یقین رکھتا ہوں کہ وہ اس پر پوری طرح قائم رہینگے لیکن چونکہ اس کالج میں دوسرے طالب علم بھی داخل ہوں گے اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے احمدی طلباء اپنے امی سے دوسروں کو بھی اس روایت پر قائم رکھنے کی کوشش کریں گے اور کوئی ایسی حرکت نہیں ہونے دیں گے تو کالج کے نظام کے خلاف ہو اور میں سے یہ شبہ پڑھتا ہو کہ زور اور طاقت سے اپنی بات منوانے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ زور اور طاقت سے ماننے کے لئے یہاں کوئی شخص تیار نہیں ہے۔دنیا میں لوگ زور اور طاقت سے اپنے مطالبات منواتے ہیں۔مگر وہ اُس وقت منواتے ہیں جب انہیں یقین ہوتا ہے کہ دوسرا فریق زور اور طاقت سے مرعوب ہو جائے گا۔اگر انہیں یہ یقین نہ ہو تو وہ زور اور طاقت استعمال کرنے کی برات بھی نہ کریں۔واقعہ مشہور ہے ہ کوئی یتیم لڑکا جس کی ماں چکی ہیں ہیں کو گزارہ کیا کرتی تھی ایک درہ اپنی ماں سے کہنے لگا۔مجھے و آنے چاہئیں۔ماں نے اسے کہا۔میرے پاس تو صرف ایک آنہ ہے وہ لیلو، مگر لڑکا مد کرنے لگا اور کہنے لگائیں تو دو آتے ہی لوں گا۔وہ لڑکا اس وقت چھت کی منڈیر پر بیٹھا تھا مال کرو کہنے لگا مجھے دو آنے دو ورنہ میں ابھی چھلانگ لگا کر کر بھاؤں گا۔اس بیچاری کا ایک ہی لڑکا تھا۔وہ اسے ہاتھ جوڑے، منتیں کرے اور بار بار کہے کہ بیٹا ایک آند لے لیے اس سے زیادہ میرے پاس کچھ نہیں مگر وہ یہی کہتا چلا جائے کہ مجھے دو آنے دے نہیں تو میں ابھی چھلانگ لگاتا ہوں۔ماں نیچے کھڑی روتی بھائے اور بچہ اوپر بیٹھ کر چھلانگ لگانے کی دھمکی دیتا پھلا جائے اس وقت اتفاقا گلی میں سے کوئی زمیندار گزر رہا تھا۔وہ پہلے تو باتیں سنتا رہا۔آخر اس نے وہ آلو بیس سے توڑی ہلائی جاتی ہے اور جیسے سالگھا کہتے ہیں نکال کی اس لڑکے کے سامنے کیا اور کہا تو اوپر سے آئیں نیچے سے سانگھا تیرے پیٹ میں ماروں گا۔لڑکا یہ سنتے ہی کہنے لگا۔نہیں نے چھلانگ تھوڑی لگاتی ہے۔میں تو اپنی ماں کو ڈرا رہا تھا۔تو اس قسم کی باتیں وہ میں سنی جاتی ہیں جہاں زور اور طاقت سے دوسرے لوگ مرعوب ہو جاتے ہوں لیکن ہم وہ ہیں جنہیں اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ صداقت خواہ ایک کمزور سے کمز ور ان ان کے منہ سے نکلے سے قبول کر چو اور صداقت کے خلاف کوئی بات قبول میت کے وچا ہے وہ ایک طاقتور کے منہ سے نکل رہی ہو۔قادیان سے باہر بیشک ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔لیکن ہمارے سلسلہ کی کسی