تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 618 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 618

پہنچے اور پہلے طبی وزر کا ہاتھ بٹانے لگے۔ان کے بعد تیسرا وندر ۱۸ ماه صبح مجبوری یہ ہیں کہ بہار گیا۔جو : - حضرت ڈاکٹر بدر الدین احم صاحب اپنی غیر مطبوعہ خود نوشت سوانح میں تحریر فرماتے ہیں : سید نا حضرت اقدس نے تحریک فرمائی کہ بہار میں مسلمان مظلوموں کی امداد کے لئے ابھی اور ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔چنانچہ ڈاکٹر مجد جی صاحب اور عاجز دونو نے اپنے آپکو پیش کر دیا۔اور چند دنوں کے بعد ہم بہار پہنچے گئے۔رہے اول سیدنا مسیح المدعو علي الصلاة و السلام کے مرید مکرم علیم خلیل احمد صاحب کے مکان پر تو گھر پہنچے۔مونگیر کو تو ہم بڑا شہر جانتے تھے گو سٹیشن پر سوائے گھوڑا گاڑی کے اور کوئی سواری نہ تھی اور یہ گھوڑے سے پنجابی گدھے کے ایک دو سالہ بچے کی مانند دبلے پہلے اور نحیف تھے۔خیر ہم سیدھے حکیم صاحب کے ہاں پہنچ گئے دیکھا تو توجہ فسادات سب طرف خون کی حالت طاری تحتی حکیم صاحب کے ہاں کچھ سامان غرباء میں تقسیم کے لئے موجود تھا۔ہم دو تین روز ٹھہرے۔حضرت حکیم صاحب کی معیت میں ہم خاص توت میں کی میں۔نتظمین امداد مظلومین کے پاس پہنچے مگر ان مسلمانوں میں ہم سے نہیں نیچانی۔مگرحکیم صاحب بالخصوص عاجز کے باریش وجود کو بطور تبلیغ استعمال فرمانہ ہے تھے۔پھر حکیم صاحب کی معیت میں ہم DISTRICT OFFICER کے پاس گئے۔وہ سلمان عمر شخص تھے مگر ہند روی کار در تھا ، کو بھی ہندوؤں کے دباؤ میں رہنا پڑتا تھا۔دیکھا کہ ایک ہندو آپ کے پاس بیٹھا ہے اور کوئی ایک گھنٹہ تک برابر پوست ہی میں جاتا تھا۔گویا کہ وہ درد کی بجائے اپنی ہی حکومت جان رہا تھے۔خیر مشکل ہیں وقت ملا مگر ہر صاحب نے فرمایا کہ اسوقت محالات درست ہو چکے ہیں اور مظلومین کی امداد کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ہم اُن سے نا امید ہو کر واپس ہوئے۔آخر حکیم صاحب کی معیت میں ہم بذریعہ ریل PATNA پہنچے۔وہالی ہمارا ایک دور جناب مولوی برکات احمد صاحب را این حضرت مولوی را بیگی صاحب) کی قیادت میں آیا ہوا تھا اور وہ دیہان امیر جماعت کے مکان پر مقیم تھے۔ہم وہاں پہنچ گئے۔آخر اُن کی مدد سے ہم نے اور یہ خریدیں اور پھر ان کی قیادت میں بذریعہ ریل اسی علاقہ کی طرف روانہ ہوئے جہاں ہمارے ایک احمدی لگاؤں کی جماعت آباد تھی۔ایک خاص سٹیشن پر اتر کر داری میں بیٹھے۔ہمارے امیر صاحب کچھ خائف تھے۔اور خطرہ ہی کے علاقہ سے ہم گزر رہے تھے اور بار بار ہم میں سے ہر ایک کے پاس آکر ہدایات دیتے رہے کہ اترنے کے وقت اس طریق سے چاہیں گے۔غرض ہم تسبیح و تحمید اور درود پڑھتے ہوئے اس جگہ آن پہنچے اور سڑک سے اتر کر کھیتوں میں سے ہو کہ اپنے گاؤں میں پہنچے گئے۔اس وسیع علاقہ میں صرف یہی گاؤں بمعہ مسجد کے محفوظ رہا تھا ورنہ چاروں طرف تباہی سے مسلمان نابود ہو گئے تھے۔اس حالت کو دیکھ کر صاف اور بین طور پر نشان ہی نظر آرہا تھا کہ کیونکہ جب کہ چاروں طرف سینکڑوں گاڑی کے مسلمان تباہ ہو گئے۔یہ صرف ایک گاؤں میں اپنی مسجد کے محفوظ رہا۔صاف ظاہر تھا کہ یہاں ملائکہ کا پہرہ تھا۔ہماری جماعت کے احباب نہیں دیکھکر بہت خوش ہوئے۔وہاں ابھی پولیس کے دو نیچے لگے ہوئے مخالی پڑے تھے ہم میں دیکھکر ہوئے۔اب رویے پڑے ہیں تقسیم ہوگئے۔یہاں ہمیں بتایاگیا کہ جب ہجوم اس طرف کو بڑھا تھا تو احمدی احباب نے اپنے مکانوں کے اندری پانے چلانے شروع