تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 46
جاتا ہے۔اسی طرح ابھی ہم دریا کے دہانہ کے قریب ہیں۔ایک زمانہ ایسا گذرا ہے جب لوگ ہماری جماعت کے متعلق سمجھتے تھے کہ یہ ایک نالے کی طرح ہے جو شخص چاہے اس پر سے کود کو گزر جائے مگر اب ہم ایک نہر کی طرح بن چکے ہیں۔لیکن ایک دن آئے گا جب دُنیا کے بڑے سے بڑے دریا کی وسعت بھی اس کے مقابلہ میں حقیر ہو جائے گی جب اس کا پھیلاؤ اتنا وسیع ہو جائے گا جب اس کا بہاؤ اتنی شدت کا ہوگا کہ دنیا کی کوئی عمارت اور دنیا کا کوئی قلعہ اس کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکے گا۔پس ہمارے پروفیسروں کے سپرو وہ کام ہیں جو خدا اور اس کے فرشتے کہ رہتے ہیں اگر وہ دیانتداری کے ساتھ کام کریں گے تو یقیناً کامیاب ہوں گے اور اگر وہ غلطی کریں گے تو ہم یہی دُعا کریں گے کہ خدا انہیں تو بہ کی توفیق دے اور انہیں محنت سے کام کرنے کی ہمت عطا فرمائے لیکن اگر وہ اپنی اصلاح نہیں کریں گے تو وہ اس سلسلہ کی ترقی میں ہرگز روک نہیں بن سکیں گے جس طرح ایک مچھر بیل کے سینگ پر بیٹھ کر اُسے تھ کا نہیں سکتا، اسی طرح ایسے کمزور انسان احمدیت کو کسی قسم کی تھکاوٹ اور ضعف نہیں پہنچا سکیں گے۔جن سوالات کو اس وقت میرے سامنے پیش کیا گیا ہے ان سب کے متعلق میں ابھی فوری طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔لیکن جہانتک لباس کا سوال ہے میری رائے یہ ہے کہ ہمیں تعلیم کو آسان اور سہل الحصول بنانا چاہیے اور کوئی ایسا بوجھ نہیں ڈالنا چاہئیے جیسے طالب علم برداشت نہ کر سکیں تا ایسا نہ ہو کہ غریب لڑکے اس بوجھ کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ جائیں جہانتک کھیلوں کا تعلق ہے مجھے افسوس ہے کہ کالجوں میں بعض ایسی کھیل ہیں اختیار کر لی گئی ہیں جن پر روپیہ بھی صرف ہوتا ہے اور صحت پر بھی وہ بُرا اثر ڈالتی ہیں۔میں نے یورپین رسالوں میں پڑھا ہے انگلستان میں کھیلوں کے متعلق ایک کمیٹی مقرر کی گئی تھی میں نے بہت کچھ غور کے بعد یہ رپورٹ پیش کی کہ ہاکی کے کھلاڑیوں میں سیل کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے۔یہ تحقیق تو آج کی گئی ہے لیکن میں نے آج سے اکیس سال پہلے اس کی طرف توجہ دلا دی تھی اور میں نے کہا تھا کہ میں ہاکی سے نفرت کرتا ہوں یہ صحت کے لئے مضر ہے اس سے سینہ کمزور ہو جاتا ہے کیونکہ جھک کر کھیلنا پڑتا ہے" (الفضل جلد ا ت ا حث