تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 45 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 45

۴۵ ہے جس کے سایہ میں بیٹھنے کے لئے لوگ مجبور ہوں گے اور اگر وہ نہیں بیٹھیں گے تو تپتی دھو میں وہ اپنے دماغوں کو بجھلائیں گے اور انہیں دنیا میں کہیں آرام کی جگہ نہیں ملے گی۔پس ہم جانتے ہیں کہ میں راستہ کو ہم نے اختیار کیا ہے وہ ضرور ہمیں کامیابی تک پہنچانے والا ہے کسی خیال کے ماتحت نہیں۔کسی وہم اور گمان کے ماتحت نہیں بلکہ اس علیم و خبیر بہتی کے بتانے کی وجہ سے یہ یقین ہمیں حاصل ہوا ہے جو کبھی جھوٹ نہیں بولتی جس کی بتائی ہوئی بات کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔یہ ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں پر اختیار کر کے ہم نے انہیں اس کا لچ میں پروفیسر مقرر کیا ہے اُن میں سے بعض نا اہل ثابت ہوں۔مگر اُن کے نا اہل ثابت ہونے کی وجہ سے اس کام میں کوئی نقص واقعہ نہیں ہو سکتا جس طرح دریا کے دھارے کے سامنے پتھر آ جائے تو وہ بہر جاتا ہے مگر دریا کے دھارے کو وہ روک نہیں سکتا۔اسی طرح اگر کوئی شخص غلط کام کرتا ہے یا اپنے کام کے لئے کوئی غلط طریق اختیار کرتا ہے ، وہ احمدیت کے دریا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔وہ اپنی تباہی کے آپ سامان پیدا کرتا ہے۔وہ مٹ بھائے گا ، مگر میں دریا کو خدا نے چھلایا ہے، جس کی حفاظت کے لئے اس نے اپنے فرشتوں کو آپ مقرر کیا ہے دنیا کی کوئی طاقت اس کے بہاؤ کو روک نہیں سکتی خواہ وہ یورپ کی ہو خواہ وہ امریکہ کی ہو خواہ وہ ایشیاء کی ہوا اور خواہ وہ دنیا کے کسی اور ملک کی ہو۔ہمیں نظر آ رہا ہے کہ خدا تعالے کے فرشتے یورپ میں بھی اُتم ر ہے ہیں ، امریکہ میں بھی اُتر ر ہے ہیں، ایشیا میں بھی اُتر رہے ہیں اور ہر شخص جو اس مشن کا مقابلہ کرتا ہے ، ہر شخص جو خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغام کو رو کرتا ہے وہ اپنی ہلاکت کے آپ سامان کرتا ہے۔آج اور کل اور پرسوں اور اترسوں دن گزرتے چلے جائیں گے۔زمانہ بدلتا چلا جائے گا ، انقلاب پڑھتا چلا جائے گا اور تغیر وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا۔روز بروزہ اس سلسلہ کی راہ سے روکیں دُور ہوتی جائیں گی روز مرہ وہ یہ دریا زیادہ سے زیادہ فراخ ہوتا چلا جائے گا۔دریا کے دہانہ کے پاس ہمیشہ چھوٹے چھوٹے نالے ہوتے ہیں جن پر سے ہر شخص آسانی سے کود کر گذر سکتا ہے۔میں نے خود جہلم کے دہانہ کے پاس ایسے نالے دیکھے ہیں اور میں خود بھی ان نالوں پر سے کود کر گزرا ہوں۔مگر آہستہ آہستہ دریا ایسا وسیع ہوتا جاتا ہے کہ بڑے بڑے گاؤں اور بڑے بڑے شہر بہا کر لے