تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 570
۵۵۵ پہنچنا ثابت کیا، جن کا کوئی معقول جواب مسٹر گرین سے نہ بن پڑا۔، ہ ر و فار جوں ٹی کو مسٹر گرین نے حضرت مسیح کے مردوں سے جی اٹھنے کے متعلق اپنا موقف پیش کیا میں پڑھوں نا شمسی صاحب نے انا جھیل دکھا دکھا کر ان کی غلطی پبلک پر ایسی واضح کر دی کہ آئندہ انہوں نے مباحثہ کا سلسلہ بند کر دیاہے مگر میں ناشتن صاحب بدر منور ہا ئیڈ پارک میں تشریف سے بھاتے اور اسلام کی آوانہ بلند کرتے رہے۔دار نبوت اومبر میں کومولانا جلال الدین صاحب مشن کی ہائیڈ پارک میں یہودیوں سے لاجواب گفتگو ہوئی یہودی نمائندوں نے فلسطین میں داخل ہونے کے متعلق اپنا مذ ہی حقی ثابت کرنے کی کوشش کی۔لیکن مجاہد اسلام نے اُن کے دلائل کو ایسی عمدگی اور خوبی کے ساتھ رد کیا۔کہ یہودی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے اور اُس مجلس میں مسبق مسلمان اور عرب موجود تھے وہ نہایت ہی خوش ہوئے۔اس واقعہ کی تفصیل حضرت مولوی صاحب موصوف کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں :۔" اس روز یہودی بہت سے جمع ہو گئے اور انہوں نے فلسطین کے متعلق سوالات شروع کر دیئے۔یں نے کہا ہر عقلمند ہی کہے گا کہ باشندگان فلسطین کاحق ہے کہ وہ وہاں حکومت کریں غیر اقوام کا یہی نہیں کہ وہ ان کی خلاف مرضی یہودیوں کو وہاں بسائیں۔ایک یہودی نے کہا کہ ہمارا حق ہے کیونکہ با تکمیل میں خدا نے ابراہام سے یہ وعدہ کیا تھا کہ یں تجھ کو اور تیرے بعدتیری نسل کو ستان کا تمام ملک جس میں تو پردیسی ہے ایسا دونگا کہ وہ دائمی ملکیت ہو جائے۔میں نے کہا یہ درست ہے لیکن ابراہیم علیہ السلام کی نسل تو حضرت اسمجھیں علیہ السلام بھی تھے جیسا کہ پیدائش ہی سے ظاہر ہے۔جب یہود صحیح راستہ سے دور جا پڑے اور حضرت میری کو نہ ماناتو ان کے ذریعہ خداتعالی نے پیشگونی کرا دی کہ اب یہود سے آسمانی بادشاہت چھین لی جائے گی اور دوسری قوم کو دی جائے گی اور وہ بنی اسمعیل ہیں جو عرب ہیں۔پس پیشگوئی کے مطابق ارض کنعان مسلمان عربوں کے قبضہ میں رہی۔ایک یہودی نے کہا جب مسیح کے بعد یہود سے یہ زمین سے لی گئی تو مسلمانوں کے قبضہ میں کب آئی ؟ وہ تو رومیوں کے پاس چلی گئی۔میں نے کہا حضرت ابراہیم سے کنعان کی زمین کے دینے کا جو وعدہ خدا نے کیا تھا وہ کب پورا ہوا۔وہ اس وعدہ کے تقریبا پانچ چھ سو سال بعد جھا کہ پورا ہوا تھا۔جب یہود کو بادشاہت ملی۔اس طرح حجب اُن سے فلسطین کا ملک دوسروں کے قبضے میں چلا گیا اور حضرت ابراہیم کی دوسری نسل کو ملنے کا فیصلہ العقل ۱۲ را خا ر اکتو به ر مین صحت کالم ۳-۴ :